حضرت صاحب! میں پاکستانی اور حنفی مسلک کا مقلد ہوں اور "عمان" میں ایک مسجد میں امامت کرتا ہوں ، اب چونکہ یہاں پر ہمیں شافعی مسلک کے مطابق نمازیں پڑھانی پڑتی ہے ، جیسا کہ سورتِ فاتحہ پہلے بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنا اور سورتِ فاتحہ کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہنا ، تاکہ پیچھے مقتدی بھی سورتِ فاتحہ پڑھ سکے اور فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھن، اور وتر کی نماز الگ الگ دو سلاموں کےساتھ پڑھانا ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی حنفی مسلک کے مقلد کے لۓ شافعی مسلک کے مطابق نماز پڑھانا جائز ہے کہ نہیں؟
حنفی مسلک کے مقلد کے لۓ شافعی مسلک کے مطابق نمازیں پڑھانا صحیح نہیں ہے ، کیونکہ اپنے امام کے مذہب سے دوسرے کی طرف بلا ضرورتِ شدیدہ عدول کرنا جائز نہیں ہے ، اور چونکہ اس میں اتباعِ ہو یٰ کا بھی خطرہ ہے اور مسائلِ شرعیہ میں اتباع ہوی کا اندیشہ بھی جائز نہیں ، البتہ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ امام انہیں شافعی مسلک کے مطابق نمازیں پڑھائے تو پھر ان کو چاہیۓ کہ وہ اپنے لۓ شافعی مسلک کے امام کو تلاش کریں ۔
فی عقود رسم المفتى : لا يجوز للمفتى و العامل أن يفتى أو يعمل بما شاء من القولين أو الوجهين من غير نظر و هذا لاخلاف فيه و سبقه الى حكاية الإجماع فيها ابن الصلاح و الباجى من المالكية - (ص: ۳ )۔
و في حاشية ابن عابدين : و الذي يميل إليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض ، لأن كثيرا من الصحابة و التابعين كانوا أئمة مجتهدين و هم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم اھ(1/ 564)۔