اگر والدہ کی طبعیت خراب ہو اور گھر میں اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو اس وجہ سے جماعت کی نماز چھوڑ سکتے ہیں؟
اگر بیمار آدمی کے پاس اس کا خیال رکھنے والا اور کوئی نہ ہو اور جماعت کےلئے مسجد چلے جانے کی صورت میں بیمار کو تکلیف ہوتی ہو تو اس صورت میں جماعت چھوڑنا درست ہے۔
ففي الهندية : وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض ( إلى قوله) أو كان قيماً لمریض (۸۳/۱) ۔
وفي ردالمحتار:تحت(قوله وقيامه بمريض) أي يحصل له بغيبته المشقةوالوحشة،(۱/۵۵۶)۔