امامت و جماعت

والدہ کی تیمارداری کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کاحکم

فتوی نمبر :
34197
| تاریخ :
2018-04-29
عبادات / نماز / امامت و جماعت

والدہ کی تیمارداری کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کاحکم

اگر والدہ کی طبعیت خراب ہو اور گھر میں اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو اس وجہ سے جماعت کی نماز چھوڑ سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر بیمار آدمی کے پاس اس کا خیال رکھنے والا اور کوئی نہ ہو اور جماعت کےلئے مسجد چلے جانے کی صورت میں بیمار کو تکلیف ہوتی ہو تو اس صورت میں جماعت چھوڑنا درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الهندية : وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض ( إلى قوله) أو كان قيماً لمریض (۸۳/۱) ۔
وفي ردالمحتار:تحت(قوله وقيامه بمريض) أي يحصل له بغيبته المشقةوالوحشة،(۱/۵۵۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 34197کی تصدیق کریں
0     568
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات