کیا فرماتے ہیں علماءِ دین مفتیانِ شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد احمد نے قاری ریاض صاحب کو ایک کمپنی کا کسی جاننے والے کے واسطہ سے تعارف کرایا، جو اس کمپنی میں کام کرتا تھا کہ یہ کمپنی شیئرز پر معقول منافع دیتی ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس میں حصہ ڈال دیں کمپنی نہ محمد احمدنے دیکھی تھی، نہ قاری صاحب نے اپنی رقم بغرض کا روبار محمد احمد تک پہنچائی، تو احمد نے وہ امانت بحفاظت کمپنی میں کام کرنے والے اپنے جاننے والے تک پہنچا دی جو کمپنی میں جمع ہو گئی ۔ منافع ملنے کے وقت اب قاری صاحب خود کمپنی گئے کمپنی دیکھی متعلق احباب سے جان پہنچان ہوگئی تسلی ہو گئی کمپنی نے چیک دیا جو کیش نہ ہوا قاری صاحب محمد احمد کے پاس آگئے محمد احمد نے تمام رقم بمع منافع واپس منگوالی جس کو آتے آتے تین چار گھنٹے لگ سکتے تھے۔
اب قاری صاحب نے محمد احمد کو کہا مجھے دیر ہو جائیگی لہٰذا منافع والے پیسے مجھے آپ اپنی طرف سے دیدیں میرے والے منافع کے آپ منگوا لیں اور فلاں کو کہیں قاری صاحب کہتے ہیں میری باقی رقم جمع کرا دیں محمد احمد نے قاری صاحب کا پیغام بذریعہ فون فلاں کو پہنچایا، جس نے دوبارہ رقم جمع کرادی اور رسید قاری صاحب کو مل گئی ہے اہم بات یہ ہے کہ دونوں کے درمیان کوئی بھی معاہدہ نہ زبانی ہوا نہ تحریری، کہ کل نقصان کا ذمہ دار محمد احمد ہوگا۔ اور نہ ہی شرعاً کاروبار میں کوئی دوسرا نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ اب نفس مسئلہ کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: صرف جاننے والے پر بھروسہ کیا گیا جبکہ قاری صاحب نہ کمپنی کو جانتے تھے نہ مطلوب شخص کو اور محمد احمد نے بغیر کسی لالچ کے صرف تعارف کرا یا بخیر خوبی رقم جمع ہوگئی منافع مل گیا۔
دوسری صورت : قاری صاحب کمپنی بھی جانتے تھے، مطلوبہ شخص سے جان پہچان ہوگئی تسلی بھی ہو گئی محمد احمد نے دوبارہ جمع کرانے کا بھی نہیں کہا بلکہ محمد احمد نے تمام رقم بمع منافع نکلوالی تھی ،لیکن قاری صاحب نے اپنی صواب دید پر خود جمع کرادی۔ ۱۔ اب نقصان کی صورت میں یعنی فراڈ ہو گیا تو کیا قاری صاحب محمد احمد کو ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں ۔ کیا یہ درست ہے؟ کیا محمد احمد چیک ادا کرنے کا مستحق ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت سے جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ مستفتی: محمد احمد شیر شاہ کالونی کراچی
مذکور طریقہ پر دھوکہ اور فراڈ ہو جانے کی صورت میں مسمی محمد احمد کسی قسم کے نقصان کا ذمہ دار نہیں ۔ البتہ شیئرز کے کاروبار کی صحت اور جواز وغیرہ کے متعلق اس کاروبار کی مکمل وضاحت کر کے دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0