میرے بیٹے آسٹریلیا میں کرائے پر رہتے ہیں، وہاں اگر وہ گھر لینا چاہیں تو وہ جس سے لینگے انہیں پیمنٹ بینک سے ہوگی اور پھر میرے بیٹے قسطوں میں بینک کو ادائیگی کریں گے ، کیونکہ بغیر بینک کی مدد کے وہاں گھر لینا ممکن نہیں، بہت مہنگے ہیں، تو کیا یہ جائز ہوگا؟
سائل کے بیٹوں کو آسٹریلیا میں مجبوراً ، بینک کے ذریعہ ہی گھر خریدنا پڑ رہا ہو، اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بنتی ہو تو اس کے لئے یہ صورت اختیار کی جا ہو سکتی ہے کہ بینک پہلے گھر کو خرید کر اپنے قبضہ میں لے اس کے بعد وہ مکان اصل قیمت جمع اضافی چارجز کے قسطوں پر سائل کے بیٹوں کو فروخت کر دے۔ پھر ان قسطوں کے معاملے کو ابتداء ہی سے اسی طرح طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار قسطوں پر معاملہ کیا جا رہا ہے اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی ۔ اور کسی قسط کی تاخیر پر کوئی اضافی چارجز بھی وصول نہ کیے جائیں گے تو اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا، لہذا مندرجہ بالا طریقہ کے مطابق سائل کے بیٹوں کا بینک کے ذریعہ قسطوں پر مکان خریدنا درست ہوگا۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کرائے کے مکان میں ہی رہنے کو ترجیح دیدی جائے ۔
قال الله تعالى: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130]
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) تعليل لاشتراط كون الأجل معلوما؛ لأن علمه لا يفضي إلى النزاع، (إلی قوله) ومنها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل أسبوع البعض فإن لم يشرط في البيع بل ذكر بعده لم يفسد، وكان له أخذ الكل جملة وتمامه في البحر (4/ 531)
و في الدر المختار: له ألف من ثمن مبيع فقال: أعط كل شهر مائة فليس بتأجيل بزازية. (4/ 533)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله فرع. . . إلخ) وحاصله: أن المستقرض لو قضى أجود مما استقرض يحل بلا شرط اھ (5/ 350)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0