مروجہ بینکاری

آسٹریلیا میں بینک کےذریعہ گھر خریدنے کا حکم

فتوی نمبر :
28719
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / بینکاری / مروجہ بینکاری

آسٹریلیا میں بینک کےذریعہ گھر خریدنے کا حکم

میرے بیٹے آسٹریلیا میں کرائے پر رہتے ہیں، وہاں اگر وہ گھر لینا چاہیں تو وہ جس سے لینگے انہیں پیمنٹ بینک سے ہوگی اور پھر میرے بیٹے قسطوں میں بینک کو ادائیگی کریں گے ، کیونکہ بغیر بینک کی مدد کے وہاں گھر لینا ممکن نہیں، بہت مہنگے ہیں، تو کیا یہ جائز ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے بیٹوں کو آسٹریلیا میں مجبوراً ، بینک کے ذریعہ ہی گھر خریدنا پڑ رہا ہو، اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بنتی ہو تو اس کے لئے یہ صورت اختیار کی جا ہو سکتی ہے کہ بینک پہلے گھر کو خرید کر اپنے قبضہ میں لے اس کے بعد وہ مکان اصل قیمت جمع اضافی چارجز کے قسطوں پر سائل کے بیٹوں کو فروخت کر دے۔ پھر ان قسطوں کے معاملے کو ابتداء ہی سے اسی طرح طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار قسطوں پر معاملہ کیا جا رہا ہے اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی ۔ اور کسی قسط کی تاخیر پر کوئی اضافی چارجز بھی وصول نہ کیے جائیں گے تو اس طرح کا معاملہ کرنا شرعاً بھی جائز ہوگا، لہذا مندرجہ بالا طریقہ کے مطابق سائل کے بیٹوں کا بینک کے ذریعہ قسطوں پر مکان خریدنا درست ہوگا۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کرائے کے مکان میں ہی رہنے کو ترجیح دیدی جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130]
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) تعليل لاشتراط كون الأجل معلوما؛ لأن علمه لا يفضي إلى النزاع، (إلی قوله) ومنها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل أسبوع البعض فإن لم يشرط في البيع بل ذكر بعده لم يفسد، وكان له أخذ الكل جملة وتمامه في البحر (4/ 531)
و في الدر المختار: له ألف من ثمن مبيع فقال: أعط كل شهر مائة فليس بتأجيل بزازية. (4/ 533)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله فرع. . . إلخ) وحاصله: أن المستقرض لو قضى أجود مما استقرض يحل بلا شرط اھ (5/ 350)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 28719کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • اے ٹی ایم کیلئے دکان کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اسکین   مروجہ بینکاری 0
  • سودی بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 1
  • ایم سی بی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • ریٹائرڈ بینکر کے گھر رشتہ ڈالنا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک اپلیکشن کے استعمال پر کیش بیک کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • حکومتی سبسڈی اسکیم کے تحت یو بی ایل بینک سے گاڑی خریدنا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • Engaging in conventional banks documents

    یونیکوڈ   انگلش   مروجہ بینکاری 0
  • سود کی رقم سے کنورزن (Conversion )فیس اداء کرنا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • کمرشل بینک کی ڈیوڈنڈ(منافع کی ایک صورت) کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • ایم سی بی بینک کے میچول فنڈ میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 1
  • سودی بینک میں ’’سیونگ اکاؤنٹ‘‘ کُھلوانا- کریڈٹ کارڈ کے استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • میزان بینک سے گھر بنوانے اور سولر پینل لگوانےکا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • غیر مسلم ممالک میں مورگیج پر گھر خریدنے کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک میں منافع کے لئے رقم رکھوانا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • نیشنل بینک کے "اعتماد ماہانہ بچت اکاؤنٹ" کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • سیونگ اکاؤنٹ میں ملنے والی سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • اسٹیٹ بینک میں ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   مروجہ بینکاری 0
  • عام بینکوں کی لیزنگ کے بارے میں شرعی حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • ”البرکہ، المیزان ، الفلاح “کے ذریعہ کار لیزنگ کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک سے لیز پر گاڑی خریدنے میں کیا شرائط ہیں؟

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • کاروبار کی غرض سے بینک سے قرض لینا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • دوست کے پیسے کوسود کے عوض معاف کروانا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
Related Topics متعلقه موضوعات