کیا کسی مسلمان کے لیے یہ کہنا کہ ہم مسلمانوں سے تو کافر بہتر ہیں کہ فلانا کام کرتے ہیں یا فلانا کام نہیں کرتے، کیا ایسا کہنا غلط نہیں؟ ایسی بات کرنے والے کو کس طرح سمجھایا جائے؟ کیا کوئی حدیث اس متعلق موجود ہے ؟ بعض لوگوں کو سمجھایا جاتاہے تو وہ کہتے ہیں کہ کیا مسلمان ہونے کا یہ مطلب ہے کہ تم سے بہتر اور کوئی نہیں ؟ کیا اسلام کی نعمت پر خود کو کافروں سے بہتر سمجھنا غلط ہے ؟ جبکہ اپنے گناہوں کا اعتراف بھی ہو ؟ کیا صرف اللہ جل شانہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بنیاد پر ایک مسلمان خود کو کافروں سے بہتر گردان سکتا ہے؟
واضح ہو کہ مجموعی طور پر اسلام، ایمان اور قرآن جیسی عظیم نعمتوں کی وجہ سے مسلمان کفار سے بہتر ہیں، اس لیے مطلقاً یہ کہنا کہ ہم سے تو غیر مسلم اچھے ہیں، ایسے جملے کہنے سے ایمان کو خطرہ لاحق ہوتاہے، اس لیے ایسے جملوں سے احتراز لازم ہے، جبکہ ایمان اور اسلام کی بنیاد پر اپنے کو غیر مسلموں سے بہتر اور افضل سمجھنا درست، بلکہ عین ایمان ہے، تاہم غیر مسلموں کی کسی انتظامی اچھائی اور خوبی کی وجہ سے یہ کہنا کہ ہم سے تو غیر مسلم اچھے ہیں، شرعاً جائز اور درست ہے۔
مگر مطلقاً یوں کہنا درست نہیں کہ ہم سے تو غیر مسلم اچھے ہیں، ایسے جملے کہنے سے ایمان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اسی لئے ایسے جملوں سے احتراز لازم ہے جبکہ ایمان اور اسلام کی بنیاد پر اپنے کو غیر مسلموں سے بہتر اور افضل سمجھنا درست بلکہ عین ایمان ہے۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: ﴿وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ﴾ ۔ (البقرۃ:۲۲۱)۔
وقال تعالی: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَر ﴾ (آل عمران:۱۱۰)۔
وفي شرح الفقه الأکبر: معلم قال: الیهودي خیر من المسلمین، یقضون حقوق معلمي صبیانهم کفر، وفیه انه یمکن حمله علی ٲنه آراد الخیرية من هذہ الحیثية لا من جمیع الوجوہ الشرعية اھـ (ص:۱۸۶) ــــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1