میرا تعلق سعودیہ عربیہ سے ہے، اصل میں میں انڈیا ممبئی کا رہنے والا ہوں، میں یہاں تبلیغ کا کام کرتا ہوں، اور اس وقت بھی میرے روم کی تین دن کی جماعت کا قیام ہے، میرے چار مہینے لگ چکے ہیں،اور پابندی سے یہاں تین دن لگتے ہیں، سنت پر پابند رہنے کی پوری کوشش کرتا ہوں، اور نبی ﷺ سے محبت ہے،اور نبی ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں، اب بات یہ ہے کہ میں یہاں ایک سال سے ا نٹرنیٹ پر ایک قادیانی لڑکی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں، وہ لڑکی جرمنی میں رہتی ہے، اور مجھ سے بہت پیار کرتی ہے، تو میرا سوال یہ تھا کہ اگر وہ لڑکی مسلمان ہوجائے اور مجھے کہے کہ ایسے جھوٹ میں میرے امی ابو کے سامنے کہو کہ تم قادیانی ہو گئے، تاکہ پھر شادی ہوجائے، اور میں یہاں کفر سے نکل کر آپ کے پاس سعودیہ آجاؤں، اور پھر ہم دونوں مسلمان بن کر زندگی گزاریں، تو کیا یہ ممکن ہے؟ میں اس کو اس کفر سے نکالنے کے لئے اس کے امی ابو سے جھوٹ کہوں کہ میں قادیانی ہوگیا ہوں؟ کیا میں ایسے جھوٹ بولنے سے اسلام سے خارج ہوجاؤں گا؟
اور دوسری بات یہ عرض ہے کہ میں نے قادیانی کتب کا مطالعہ کیا ہے، جیسے ہمارے حضرت مولانا منظور احمد چنٹیوٹی رحمہ اللہ کی کتاب " رد قادیا نیت کے زریں اصول" محمدیہ پیکٹ بک بجواب احمدیہ پیکٹ بک" میرے سامنے مرزا کاذب اور اس کا دجل ہونا کھلا ہوا ہے، میں مرزا پر خوب لعنت کرتا ہوں، اور کبھی کبھی جب اس پر بہت غصہ آتا ہے اسکو گالی بھی دیتا ہوں، میں پولیٹیکل پر چلنے والے ایک روم کا ایڈمن ہوں، یہاں روم قادیانیوں کے خلاف ہے، ختم نبوت کے اکثر ساتھی جیسے عبد الرحیم ، باواجی میرے دوست ہیں، مرزائیوں کے فتنے سے اچھی طرح واقف ہوں، تو یہ ساری صورت حال میں براہ مہربانی آپ میرے سوال کا جواب دیں؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
مذکور طریقہ سے کسی لڑکی کو اپنے عقد نکاح میں لانے کی غرض سے اپنے کو غیر مسلم اور قادیانی ہونے کا اقرار بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا سبب ہے، اور یہ صورت سائل کے ایمان کے لئے آزمائش ہے، اور اس پر لازم ہے کہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے، اور محض ایک لڑکی کی اس قسم کے جملے استعمال کرکے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالنے سے احتراز کرے۔
تاہم اگر مذکور لڑکی اپنے باطل مذہب سے بصدق دل توبہ واستغفار اور براءت کا اظہار کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتی ہے، تو اس کیساتھ سائل کا شادی کرنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہوجائے گا، ورنہ سائل پر لازم ہے کہ فوراً اس سے تعلقات ختم کرکے کسی مناسب جگہ جائز طریقہ سے شادی کرنے کی فکر کرے، اور اس طرح غیر محرموں کے چکر میں پڑ کر اپنی عاقبت برباد کرنے سے مکمل احتراز کرے۔
کما فی الدر المختار: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد الخ (ج4 صـ222، ط: دار الفکر)۔
وفی الھندیۃ: الهازل، أو المستهزئ إذا تكلم بكفر استخفافا واستهزاء ومزاحا يكون كفرا عند الكل، وإن كان اعتقاده خلاف ذلك الخ (ج2 صـ276، ط: دار الفکر)۔
وفیھا ایضاً: رجل كفر بلسانه طائعا، وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافرا ولا يكون عند الله مؤمنا كذا في فتاوى قاضي خان الخ (ج2 صـ283، ط: دار الفکر)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1