مجھے معلوم کرنا ہے کہ میرا سیونگ اکاونٹ ہے، جس میں سودی پیسے ملتے ہیں، میں جانتا ہوں کہ سود حرام ہے، لیکن ان پیسوں کو میں اپنے غریب رشتہ دار کو ہبہ کے طور پر دے سکتا ہوں، کیا یہ بھی ناجائز ہے ؟
غریب رشتہ داروں کے ساتھ معاونت کی نیت سے بھی سودی اکاونٹ کھلوانا جائز نہیں، البتہ سائل نے اگر لاعلمی میں کسی سودی بینک میں سیونگ اکاونٹ کھولا ہو تو اس پر لازم ہے کہ فوراً اس کو بند کروا کر دوسرا غیر سودی اکاؤنٹ کھول دے اور اب تک جو سودی معاملہ کیا ہے اس پر بصدق دل تو بہ کرے، جبکہ پہلے سے حاصل شدہ سودی رقم اگر موجود ہو تو اس کو بلانیت ثواب اور بغیر بتائے اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو بھی دی جا سکتی ہے۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0