السلام علیکم!
مجھے یہ گزارش کرنی ہے کہ میران بنک کی بنکاری نظام باقی بنکوں سے کیسے مختلف ہے، ہم تو مولانا تقی عثمانی صاحب کے فتویٰ پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو میزان بینک کا بتا رہے ہیں، لیکن اکثر لوگ یہ کہہ کر تیار نہیں ہوتے کہ صرف نام بدلنے سے میزان باقی بنکوں سے مختلف نہیں ہو سکتا،میزان بینک بھی باقی بنکوں کی طرح کام کر رہا ہے، برائے مہربانی ہمیں یہ بتا دیں کہ میزان بینک کس طرح باقی بنکوں سے الگ اسلام کے مطابق کام کر رہا ہے، اور یہ کس طرح اپنی ایکسپینز پوری کر رہا ہے۔ تاکہ ہم لوگوں کو بتا سکیں کہ یہ فرق ہے ان بنکوں میں ، اور اگر ممکن ہو تو کوئی ایسی کتاب کا نام بتا دیں، جن میں میران بینک اور دوسرے بنکوں کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہو اور دونوں کے درمیان عملاً جو فرق ہے ،وہ دلیل کے ساتھ بتایا گیا ہو۔
لوگ ابھی تک میزان بنک کو اسلامی بنک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، براہِ کرم مہربانی فرما کر وضاحت فرمادیں ۔
اس سلسلہ میں تفصیلی معلوت کے لئے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، البتہ اجمالی طور پر یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس بنک کا تجارتی نظام، مضاربہ ، مشارکہ اور مرابحہ پر مبنی ہے۔ جسے اصولوں کے موافق اپنانے کی صورت میں اس معاملہ کا جائز ہونا بلا شبہ واضح ہوگا ۔ اور اس کے خلاف کرنے کی صورت میں حکم بھی اس کے خلاف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے ساتھ کوئی بھی معاملہ کرنے سے قبل اس کی پوری نوعیت معلوم کرنے کے بعد اس کے موافق حکمِ شرعی معلوم کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے اور ایسا ہی چاہیئے ۔ جبکہ مروجہ دوسرے بنکوں میں عموماً ان اصول وضوابط کا لحاظ نہیں کیا جاتا ۔