امامت و جماعت

خشوع وخضوع کی خاطر محلے کی مسجد کی بجائے دور کی مسجد میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
1845
| تاریخ :
2006-05-01
عبادات / نماز / امامت و جماعت

خشوع وخضوع کی خاطر محلے کی مسجد کی بجائے دور کی مسجد میں نماز پڑھنا

السلام علیکم! مفتی صاحب!
آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ اگر کسی کے گھر کے برابر میں کوئی مسجد موجود ہو ، اور وہ دور والی مسجد میں نماز پڑھے، اس وجہ سے کہ وہاں پر اُس کے خشوع وخضوع میں اضافہ ہوتا ہو ، تو یہ صحیح ہے کہ غلط؟ اللہ آپ کو اس کی جزا دے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

خشوع وخضوع کا تعلق اپنی ذات کے ساتھ ہے ، نہ کہ در ویوار کے ساتھ ، لہٰذا سائل کو چاہیۓ کہ بلاوجہِ شرعی محلہ کی مسجد کو چھوڑ کر دوسرے محلہ کی مسجد جانے سے احتراز کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين : (قوله و مسجد حيه أفضل من الجامع) أي الذي جماعته أكثر من مسجد الحي اھ (1/ 659)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد منور صفدر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1845کی تصدیق کریں
0     531
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات