السلام علیکم! مفتی صاحب!
آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ اگر کسی کے گھر کے برابر میں کوئی مسجد موجود ہو ، اور وہ دور والی مسجد میں نماز پڑھے، اس وجہ سے کہ وہاں پر اُس کے خشوع وخضوع میں اضافہ ہوتا ہو ، تو یہ صحیح ہے کہ غلط؟ اللہ آپ کو اس کی جزا دے
خشوع وخضوع کا تعلق اپنی ذات کے ساتھ ہے ، نہ کہ در ویوار کے ساتھ ، لہٰذا سائل کو چاہیۓ کہ بلاوجہِ شرعی محلہ کی مسجد کو چھوڑ کر دوسرے محلہ کی مسجد جانے سے احتراز کرے۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله و مسجد حيه أفضل من الجامع) أي الذي جماعته أكثر من مسجد الحي اھ (1/ 659)۔