(۱):میں ایک گورنمنٹ ملازم ہوں ، جاب کے لیے اسلام آباد میں رینٹ پر فیملی کے ساتھ رہتا ہوں ،اپنا گھر بنانے کے لیے گورنمنٹ کی اسکیم 20 ایڈوانس سیلری ، پانچ سالہ مدت کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہوں ،جس میں انٹرسٹ بھی ہوگا، کیا یہ ٹھیک عمل ہوگا ؟
(۲): کیا بینک اسلامی پاکستان کے ساتھ ہوم فائنانس کا ایگریمنٹ کرنا جائز ہے، سنا ہے اس کے لیے آپ نے بینک اسلامی کو جائز ہونے کا فتوی دیا ہے، مجھے گائیڈ کریں میں اپنے گھر کے لیے کیا کروں ؟
۱: گورنمنٹ کی مذکور سکیم کے تحت اگر سود بھی دینا پڑتا ہو تو ایسےایگریمنٹ کے ذریعہ مکان کا حصول اور پھر اس کی ادائیگی جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
2: اس میں شبہ نہیں کہ مذکور بینک پاکستان میں اسلامی بینکاری کرنے کا دعویدار ہے ،اور باقاعدہ مستند و ماہرینِ معاشیات علماء کرام کی ایڈوائزری میں کام کر رہا ہے، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ مذکور بینک کے شرعی ایڈوائزر سے ملاقات کر کے ہوم فائنانس وغیرہ سے متعلق تبادلہ خيال کرلے ،اور جو تفصیل ہو لکھ کر اس کا حکمِ شرعی بھی معلوم کر کے اس کے مطابق عمل کی کوشش کرے ۔
کما فی مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (2/ 855)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0