عرض یہ ہے کہ اگر عورت کی ماہواری خراب ہے یعنی پورا مہینہ عورت کو حیض ہوتا ہے ، جبکہ حیض کا خون بہت قلیل مقدار میں نکلتا ہے ، کیا ایسی عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں ؟ اور نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔
سوال میں وضاحت نہیں کہ مذکور خاتون کی یہ حالت ابتداء سے چل رہی ہے یا بعد میں خراب ہوئی ، تاہم اگر بعد میں خراب ہوئی ہو ، تو اس خرابی سے پہلے آخری بار اس کو جتنے دن خون آیا ،اسی مقدار کو حیض شمار کرے اور نماز روزہ وغیرہ چھوڑدے ، اور باقی ایام کو استحاضہ (بیماری) سمجھے اور اس میں تمام عبادات کا اہتمام کرے ، اور روزہ بھی رکھے۔
في الهداية في شرح بداية المبتدي : و لو زاد الدم على عشرة أيام و لها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها و الذي زاد استحاضة " لقوله عليه الصلاة و السلام " المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها " و لأن الزائد على العادة يجانس ما زاد على العشرة فيلحق به اھ(1/ 34)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0