ہمیں بتایا گیا ہے کہ" میزان بینک" ایک اسلامی بینک ہے، اگر ہم اس میں پیسے رکھتے ہیں، اُن پر نفع ملتا ہے ،وہ سود نہیں، بلکہ وہ ایک بزنس ہے،جو بینک والے ہمارے پیسوں کے ذریعے مختلف کمپنی سے کرتے ہیں، اور اس میں سے جو نفع سے حاصل ہوتا ہے،وہ ہمیں دیتا ہے،کیا ہم ان سے یہ معاملہ کر سکتے ہیں؟ یعنی پیسے رکھ کر نفع لے سکتے ہیں ؟ اگر یہ سود ہے تو کوئی جائز صورت بتائیں ، جس سے ہم بینک کے ساتھ کاروبار کر سکیں ،کیونکہ اگر باہر کسی سے شراکت کرتے ہیں ،تو سب دھوکہ باز ہیں ، کوئی بندہ بھی معاف نہیں کرتا۔ خواہ اپنا سگا بھائی کیوں نہ ہو ۔
اگر خود یا کسی معتمد شخص کے ذریعے اس رقم کو کاروبار میں لگایا جائے، تو یہ سب سے بہتر صورت ہے، ورنہ با مرِمجبوری دوسرے بینکوں کی بجائے "میزان بینک" میں رکھنا بہتر ہے ،اور یہ شرعاً سود کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0