زیر ناف بال کہاں تک صاف کرنے چاہیئے؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہاتھ صحیح طرح نہیں پہنچ سکتا اور پیچھے کے بالوں کا بھی یہی مسئلہ ہے،صحیح سے اندازہ نہیں ہو پاتا اور نہ ہی ہاتھ یا ریزر چلتا ہے، اور اگر پیچھے سے بال صحیح طرح صاف نہ کریں تو گناہ ہے یا نہیں؟
زیر ناف بالوں کے کاٹنے کی حد یہ ہے کہ اکڑوں بیٹھنے کی حالت میں ناف کے نیچے جو پہلا بل پڑتا ہے وہاں سے لیکر عضو تناسل، خصیتین ، دبر اور اس کے ارد گرد رانوں کے وہ بال جن کا گندگی سے بھرنے کا اندیشہ ہو ان سب کو ہفتہ میں ایک بار ریز ریا تیز دھار ی دار آلہ کے ذریعے صاف کرنا مستحب ہے اور چالیس دن تک چھوڑے رکھنا مکروہ ہے ، اس سے احتراز لازم ہے ۔
ففي الدر المختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين مجتبى اھ (6/ 406)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وكره تركه) أي تحريما لقول المجتبى ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد اهـ (6/ 407)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (والاستحداد) : أي حلق العانة، وهو استفعال من الحديد، وهو استعمال الحديد من نحو الموسى في حلق العانة ذي الشعر الذي حوالي ذكر الرجل وفرج المرأة. زاد ابن شريح: وحلقة الدبر اھ (7/ 2814) والله اعلم بالصواب
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0