(۱) میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ سنت کیا ہے؟ ہم جو سیکھتے تھے وہ یہ تھا کہ جو کچھ نبیﷺ نے اپنی زندگی میں کیا ہے وہ سنت ہے، اس معاملے میں میرا ذہن تشویش میں پڑگیاہے، میرے ناقص فہم کے مطابق ہر وہ چیز جو آپﷺ کے ذریعے سے بتلائی گئی ہے وہ سنت ہونی چاہیے، مثلاً امّی ہونا یہ سنت نہیں ہے، اسی طرح بچپن میں بکریوں کا چرواہا ہونا (بکریاں چرانا) یہ سنت نہیں ہے، اسی طرح کھجوروں کا کھانا سنت نہیں ہے، جیساکہ اس وقت سب لوگ اسی طرح کرتے تھے، اسی طرح ہاتھ سے کھانے میں بھی یہی معاملہ ہے میری سمجھ کے مطابق نبیﷺ نے کبھی ہاتھ کو استعمال کرنے کو بطورِ سنت نہیں کہا، بلکہ سنت یہ معلوم ہوتاہے کہ کھانے میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا ہے، مجھے امید ہے کہ آپ نے میرا نقطہ سمجھ لیا ہوگا، مہربانی کرکے وضاحت کیجیے۔
(۲) دوسرا سوال یہ کہ کیا نومولود بچوں کے بالوں کا استرا لگوانا اور اذان کہنا سنت ہے؟ اور ان کی احادیث صحیح ہیں، کیونکہ مجھے ایک عالم نے بتایا کہ یہ تمام احادیث ضعیف ہیں، مہربانی کرکے رہنمائی کردیجیے۔
(۱)۔ سائل نے جو امور ذکر کیے ہیں، یہ سننِ عادیہ یعنی عادت کے طور وطریق کہلاتے ہیں، البتہ اُمّی ہونا خلقی صفت ہے اُسے سنت قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کسی مکتب میں بیٹھ کر کسی استاذ سے تعلیم حاصل نہیں کی، یہ مطلب نہیں کہ (نعوذباللہ) آپ جاہل تھے، بلکہ کسی مکتب میں نہ پڑھنے کے باوجود آپ ’’اعلم الناس‘‘ تھے اور حصولِ علم آپ کی سنت ہے، باقی دائیں ہاتھ سے کھانا مسنون کے معاملہ میں سائل نے جو بات سمجھی ہے وہ شرعاً بھی درست ہے۔
(۲)۔ نومولود بچوں کے بالوں کا سترا لگوانا اور کان میں اذان کہنا مسنون اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ جن میں سےچند درج ذیل ہیں:
وفي مشکاۃ المصابیح: عن سلمان بن عامر الضبي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى» . رواه البخاري اھ (ص:۳۶۲)۔
وفیه ٲیضا: عن الحسن عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الغلام مرتهن بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي اھ (ص،۳۶۲)۔
وفیه ٲیضا: عن أبي رافع قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن ابن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة. رواه الترمذي وأبو داود. وقال الترمذي: هذا حيث حسن صحيح اھ (ص:۳۶۳) واللہ أعلم بالصواب!
ففي الفتاوی الشامية: تحت (قوله كترك سنة الزوائد) هي السنن الغير المؤكدة؛ كسيره - عليه الصلاة والسلام - في لباسه وقيامه وقعوده وترجله وتنعله، ويقابلها سنن الهدي التي هي من أعلام الدين كالأذان والجماعة اھ (۱/۴۷۷)۔
وفي مشکاة المصابیح: عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه» . رواه مسلم اھ (ص:۳۶۳)۔
وفیه ٲیضا: وعن كعب بن مالك قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل بثلاثة أصابع ويلعق يده قبل أن يمسحها. رواه مسلم اھ (ص:۳۶۳)۔
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0