السلام علیکم ! اسلام میں داڑھی کی کم سے کم حد کتنی ہے ؟ کتنی داڑھی رکھنا فرض ہے اور کتنی رکھنا سنت ہے ؟ داڑھی کتنی ہونا لازمی ہے کہ جس سے انسان گنہگار نہ ہوگا ؟
واضح ہو کہ کنپٹی کے پاس جہاں سے جبڑے کی سخت ہڈی شروع ہوتی ہے ، یہاں سے داڑھی کی ابتداء ہوتی ہے، اور تمام جبڑا داڑھی کی حد ہے ، جبکہ لمبائی کے اعتبار سے داڑھی کا ایک قبضہ ایک ( مشت ) ہونا ضروری ہے اور اس سے کم کرنا ناجائز اور حرام ہے ، البتہ جو بال ایک مشت سے زائد ہوں تو ایک مشت کی حد تک اسے کاٹ سکتے ہیں یہی معمول حضور ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے۔
کما فی صحیح البخاری : عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " وكان ابن عمر: «إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه» ( ج۲ ، ص۸۷۵ ، کتاب اللباس ، ط۔قدیمی )۔
و فی صحیح مسلم : عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ ( ج۱ ، ص۲۲۳ ،کتاب الطھارۃ ، باب خصال الفطرۃ، ط۔بیروت )۔
و فی الدرالمختار : يحرم على الرجل قطع لحيته الخ ( ج۶ ، ص۴۰۷، کتاب الحظر والاباحۃ ، ط ۔ایم سعید )۔
و فیہ ایضاً : وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح الخ۔ ( ج۲ ، ص۴۱۸ ، کتاب الصوم ،ط۔ایم سعید )۔
و فی الھندیۃ : ولا بأس أن يقبض على لحيته فإن زاد على قبضته منها شيء جزه الخ ۔ ( ج۵ ، ص۳۵۸ ، کتاب الکراھیۃ ، ط۔ماجدیہ )۔
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0