میں نے ایک حديث پڑھی ہے جس میں نبی صلی اللہ نے صحابہ کرام کو یہ بتایا کہ :
جب دین ضعف اختیار کرجاۓ گاتومسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو عمل کرنے پر پچاس صحابہ جتنا اجر ملے گا ۔
تومیری حیرت کا سبب وہ حدیث ہے کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
خیرالقرون میرا زمانہ اورپھراس کے بعد والوں کا اورپھر اس کے بعد والوں کا ، اورایک حدیث میں یہ بھی فرمایا ہے کہ تم میں سے اگر کوئ احد پہاڑجتنا سونا بھی اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کردے تووہ صحابہ کے ایک یاآدھے مد ( مٹھی ) کے اجرتک بھی نہیں پہنچ سکتا ؟
اگر ہم نیک اعمال خلوص نیت سے کریں اور ہمیں پچاس صحابی جتنا ثواب ملے پھر بھی ہم کسی بھی صحابی سے زیادہ ثواب کما کر جنت میں انسے اوپر درجہ حاصل نہیں کرسکتے بالخصوص ان صحابی کے مقابلے جنہوں نے بہت کم وقت پایا حالت اسلام میں ؟ کیونکہ ہمارے دین میں تو انصاف ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مقرب لوگ متقی ہونگے ۔
واضح ہو کہ سائل نے جن احادیث کاتذکرہ اپنے سوال میں کیاہے ان میں سے پہلی حدیث جس کوامام ترمذی ؒسمیت متعددمحدثین نے اپنی کتب حدیث میں نقل کیاہےجس میں ضعف ِدین کے ایام میں بعض نیک اعمال پرپچاس صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے عمل کی بقدراجروثواب کی نویدسنائی گئی ہے،اس حدیث پراگرچہ محدثین ؒکاکلام موجودہے تاہم تعددطرق کی وجہ سے اسے درجہ حسن میں قبول کیاگیاہے ،جبکہ دوسری دونوں احادیث وہ ہیں جن میں مقام صحابہ بیان کیاگیاہےاوریہ متن اورسندہردولحاظ سے صحیح ہیں اورامام مسلم ؒوامام بخاری ؒدونوں نے اپنی الجامع الصحیح میں ان کونقل کیاہے ،ان احادیث میں بظاہرتعارض نظرآتاہےلیکن بنظرغائردیکھاجائے تو ان میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ کسی عام شخص کاکسی عمل کے اجروثواب میں صحابہ کرام ؓسے بڑھ جانے سے ہرگزیہ لازم نہیں آتاکہ وہ شخص کسی صحابی کے مقام کوپہنچ سکےیاجنت میں اس سے بلنددرجات پرفائزہوجائے کیونکہ اجر کی دوقسمیں ہیں، عمل کا اجر اور صحبت نبوی کا اجر،یہ تو ہوسکتا ہے کہ بعد میں آنے والے ایسا عمل کریں جس کا اجر اس جیسے کام پرصحابہ کے عمل سے انہیں زیادہ ملے ، لیکن اس کے باوجود وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے اجر اوران کی صحبیت نبی کی فضیلت تک نہیں پہنچ سکتے ۔
چنانچہ شارح صحیح بخاری ،حافظ ابن حجرؒاس تعارض کورفع فرماتے ہوئے لکھتے ہیں
یہ حدیث ( ان میں سے عمل کرنے والے کو تم میں سے پچاس کا اجر دیا جائےگا ) اس پر دلالت نہیں کرتی کہ وہ لوگ صحابہ کرام سے افضل ہیں اس لیے کہ صرف اجرمیں زيادتی ہونا ہی افضلیت کا ثبوت نہیں اجرکا تفاضل تو صرف اس جیسے عمل میں ہے جو اس کے مماثل ہوگا لیکن وہ اجر جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاھدہ اوران کی صحبت سے حاصل کیا ہے اس کے برابر توکوئی بھی نہیں ہو سکتا ۔
«فتح الباري» لابن حجر (7/ 7 ط السلفية):
«والذي ذهب إليه الجمهور أن فضيلة الصحبة لا يعدلها عمل لمشاهدة رسول الله صلى الله عليه وسلم وإما من اتفق له الذب عنه والسبق إليه بالهجرة أو النصرة وضبط الشرع المتلقى عنه وتبليغه لمن بعده فإنه لا يعدله أحد ممن يأتي بعده لأنه ما من خصلة من الخصال المذكورة إلا وللذي سبق بها مثل أجر من عمل بها من بعده فظهر فضلهم ومحصل النزاع يتمحض فيمن لم يحصل له إلا مجرد المشاهدة كما تقدم فإن جمع بين مختلف الأحاديث المذكورة كان متجها على أن حديث للعامل منهم أجر خمسين منكم لا يدل على أفضلية غير الصحابة على الصحابة لأن مجرد زيادة الأجر لا يستلزم ثبوت الأفضلية المطلقة وأيضا فالأجر إنما يقع تفاضله بالنسبة إلى ما يماثله في ذلك العمل فأما ما فاز به من شاهد النبي صلى الله عليه وسلم من زيادة فضيلة المشاهدة فلا يعدله فيها أحد»
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
هوسكتاهےكه بعد میں آنے والے کچھ نیک لوگ ایسے بھی ہو ،جنہیں صحابہ کرام کے مقابلے میں پچاس گنا زیادہ اجر ملے، کیونکہ وہ مشکل حالات میں بغیر مدد کے دین پر عمل کریں گے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صحابہ سے افضل ہیں۔ صحابہ کرام کی فضیلت اس لیے سب سے اعلیٰ ہے کہ انہوں نے اسلام کی ابتدا میں، جب کفر غالب تھا اور دین کا کوئی ظاہری سہارانہ تھا، تب بھی ایمان لا کر نبی ﷺ کی مدد کی، قربانیاں دیں، اور دین کو پھیلایا۔
جیساکہ صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان موجود ہے :
( میرے صحابہ پرسب وشتم نہ کرو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے اگر کوئ احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرڈالے توپھر بھی وہ ان کے ایک یا آدھے مد ( مٹھی ) تک نہیں پہنچ سکتا ) مجموع الفتاوی ( 13 / 650-66 ) ۔
اس حدیث کے بیان سےبظاہر نبی کریم کامنشاءاپنی امت کے متاخرین کی فضیلت بیان کرنامعلوم ہوتاہےکہ جس طرح امت کے متقدمین کواللہ جل شانہ نے فضیلت بخشی ہے ویسے ہی اس کے متاخرین میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جومتقدمین کے مشابہ اوران کے قریب ہوں گے حتی کہ ان کی قوت تشابہ اورمقارنہ سے ان کودیکھنے والے کو یہ پتہ نہیں چل سکے گا کہ ان میں سے بہتر کون ہے ، اگرچہ نفس الامر میں دونوں ہی بہتر ہیں ۔
کمافی السنن الترمذی:( َإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَزَادَنِي غَيْرُ عُتْبَةَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ؟! قَالَ بَلْ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ) (سنن الترمذي: 3058)
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0