”شازل“ نام رکھنا کیسا ہے؟
تلاش بسیار کے باوجود لفظ ”شازل“ (زا کے ساتھ) لغت کی کتابوں میں نہیں مل سکا، البتہ” شاذل“ (ذال کے نیچے زیر کے ساتھ) لغت میں موجود ہے، اور یہ نام حضرت مکحول رحمہ اللہ کے آباؤ اجداد میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم اس لفظ ”شاذل“ کا کوئی واضح معنی لغت میں نہیں مل سکا، بلکہ بعض اہل لغت نے اس کو مہمل (بے معنی) قرار دیا ہے، اس بنا پر یہ نام رکھنا مناسب نہیں، لہذا بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام انبیاء کرام علیہم السلام، یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کسی نام پر رکھا جائے، یا کوئی اچھا اور بامعنی نام رکھا جائے۔
کما فی سنن أبی داؤد: حدثنا عمرو بن عون (إلی قولہ) عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسماءکم وأسماء آباءکم فأحسنوا أسماءکم، الحدیث(باب فی تغییر الاسماء، ج 2، ص 328، ط: امدادیۃ)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط الخ(الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الأولاد الخ، ج 5، ص 362، ط: ماجدیۃ)۔
وفی تاج العروس من جواهر القاموس: ش ذ ل: شَاذِلٌ ، كصَاحِبٍ ، أَهْمَلَهُ الجَوْهَرِيِّ ، وصاحِبَ اللِّسانِ ، وقالَ الصَّاغَانِيُّ : هو عَلَمٌ ، والذَّالُ مُعْجَمَةٌ(29/ 254)۔
وفی تاريخ دمشق: وشَهْرَانُ ، هكذا في النَّسَخِ ، والصَّوَابُ : سَهْرَابُ بْنُ شَاذِلٍ ، كما في التَّبْصِيرِ ، مِنْ أَجْدادِ مَكْحُولٍ ، (60/ 203)۔
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0