کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ہے ، جس نے مدرسہ کی تعلیم کو درجہ اولیٰ تک پڑھا ہے ، اس کے بعد اس نے اس تعلیم کو ترک کر دیا ، اس کے کسی استاذکا کہنا یہ تھا کہ جس نے اس تعلیم کو ترک کیا وہ دربد ر کی ٹھوکر یں کھا ئے گا ،اب ہم اس کو اپنی زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ اس کا ہر کام ناکام ہو جاتا ہے ، اس کا دل کہیں نہیں لگتا ہے ، کسی کام میں دلچسپی نہیں ہے ، دین سے دور ہوتا جا رہا ہے ،نماز میں غفلت ہوتی ہے ، روزے کا کچھ خیال نہیں ، بے چینی اور پریشانی میں مبتلا کسی سوچ میں پڑا رہتا ہے ، کیا آپ اس کو کوئی حل بتا سکتے ہیں؟ اس نے تبلیغ میں بہت وقت لگایا تھا ، لیکن اب کچھ بھی نہیں ، صرف اس کے چہرہ پر داڑھی باقی رہ گئی ہے۔
سستی اور کاہلی کا علاج چستی اور ہمت باندھنا ہے ، اس لیے سائل کو چاہیے کہ استاذِ محترم کے فرمان کو مزید سوچ کر اپنے کیے پر پریشانی کا باعث نہ بنائے ، بلکہ استاد کی اگر وفات ہو گئی ہو تو اس کے لیے دعا ءِمغفرت اور ایصالِ ثواب کرے اور اپنے کیے پر اللہ سے معافی مانگے اور اس کے حیات ہونے کی صورت میں ، اس سے اپنے لیے دعا کرائے اور پڑھائی کی عمر ہونے اور حالات کے سازگار ہونے کی صورت میں ، دوبارہ اس سلسلہ کو شروع کر دے ورنہ دیگر دینی امور و معاملات مثلاً تبلیغ وغیرہ میں شرکت کر کے اور مقامی علماءِ کرام میں سے کسی ایک متّبعِ سنت اور نیکوکار و مصلح سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کرے۔اور پھر ان کے فرمان کے موافق اپنی اصلاح کی فکر کر کے اپنی دنیا و آخرت کو سنوارا جا سکتا ہے۔ و اللہ أعلم بالصواب
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0