سلام کس کو کرنا چاہیے، پہلے بڑے کو چھوٹوں پر یا جو باہر سے آئے اس کو یا جو راہ سے چل رہا ہوں بیٹھے ہوئے پر یا بس سب چھوٹوں کو بڑوں کو سلام کرنا چاہیے، جس کے اکثر رواج ہے کہ گھر میں بڑے سلام نہیں کرتے چھوٹے ہی ان کو سلام کرتے ہیں یا اپنے سے عہدے میں چھوٹے کو بڑوں کو سلام کرنا چاہیے؟
سلام کرنے میں چھوٹے بڑے جان پہچان والے اور راہ چلتے یا بیٹھے ہوئے کی کوئی تحدید نہیں، البتہ سلام کرنے میں پہل کون کرے گا ؟ اس کے کچھ آداب ہیں وہ یہ ہےکہ باہر سے آنے والا موجود لوگوں کو ، سوار چلنے والے کو، اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اسی طرح تھوڑے لوگ زیادہ کو ابتداء بالسلام کریں یہ جو رواج ہو گیا ہے کہ چھوٹا ہی بڑے کو سلام کرے خلاف سنت و شریعت ہے کیونکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے بچوں تک کو سلام فرماتے تھے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن أنس قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على غلمان فسلم عليهم متفق عليه اھ (3/ 1316)
وفيها ایضا: وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يسلم الراكب على الماشي والماشي على القاعد والقليل على الكثير» متفق عليه اھ (3/ 1316)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قال في التتارخانية ويسلم الذي يأتيك من خلفك ويسلم الماشي على القاعد والراكب على الماشي، والصغير على الكبير، وإذا التقيا فأفضلهما يسبقهما، فإن سلما معا يرد كل واحد وقال الحسن: يبتدئ الأقل بالأكثر اهـ. (6/ 416) والله اعلم بالصواب
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0