شوہر نے داڑھی منڈوائی اور بیوی نے اس کو دیکھ کر کہا کہ ’’آج تو بڑے خوبصورت لگ رہے ہو‘‘ یا اس کے چہرے کو دیکھ کر اور کسی قسم کے تعریفی جملے کہے، یہ بات کہنے کے بعد ان کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں؟
شوہر کے داڑھی منڈوانے والے قبیح فعل پر بیوی کا خوش ہونا یا کوئی تعریفی جملہ کہنا جس سے مقصود داڑھی کو ناپسندیدہ قرار دینا یا اس سے نفرت کا اظہار نہ ہو تو اس سے اگرچہ وہ کافرہ نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سے نکاح متاثر ہوگا، لیکن کسی شخص کے اللہ کی نافرمانی پر اس کی تحسین کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے جس سے کفر کا اندیشہ ہے، اس لئے آئندہ اس طرح کے جملوں سے احتراز اور گزشتہ فعل پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفار لازم ہے۔
کما فی الھندیة: من لم یقر ببعض الانبیاء علیھم الصلاة والسلام أو لم یرض بسنة من سنن المرسلین فقد کفر۔ (ج٢، ص٤٦٣)
وفی خلاصة الفتاویٰ: ولو قال لشعر محمد ﷺ شعیرًا یکفر وتاویلہ ھکذا إن قال بطریق الإھانة۔ (ج٤، ص٣٨٦)
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0