السلام علیکم
میں ملازمت کا شرعی معیار جاننا چاہتا ہوں ان کمپنیوں میں جہاں کاروبار کی نوعیت مینوفیکچرنگ ٹریڈنگ یعنی خرید و فروخت یا کوئی اور قسم ہو، مگر سرمائے کے آنے کا ذریعہ بینک ہوں ، پاکستان میں 80 سے 90 فیصد کمپنیاں بینکوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور اس میں سے صرف 10 سے 15 فیصد اسلامی بینکوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور اس کی صورت ایل سی، را ننگ فنانس لیمٹ اور عام بینک اور ڈرافٹ لیمٹ وغیرہ ہیں ، عموماً کمپنیوں میں ملازمین جیسے اکاونٹنٹ ، فنانس آفیسر اور منیجر وغیرہ نے ہی بینک قرضے کے کاغذات تیار کرنے ہوتے ہیں، مجھے اس صورت میں آپ کی رائے فتوے کے طور پر درکار ہے کہ آیا ان کمپنیوں میں کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ میں بڑی مشکل میں ہوں اور آپ کا تعاون مجھے ملازمت جاری رکھنے میں مدد دے گا۔
واضح ہو کہ اگر کسی کمپنی میں تیار ہونے والا سامان اور اس کی اکثر آمدنی جائز ہو تو اس میں ملازمت اختیار کرنا بھی جائز ہوگا البتہ ایسی ملازمت کے دوران اگر کسی نا جائز کام مثلاً سودی معاملات وغیرہ کا حساب کتاب کرنا پڑے تو ایسی ملازمت معصیت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في تكملة فتح الملهم: تحت قوله " كاتية " لان كتابة الربا اعانة عليه (إلى قوله) فإن كان عمل الموظف في البنك مما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذلك حرام لوجهين : الاول اعانة على المعصية اھ (۱/ ۶۱۹)
و في الهداية شرح البداية: قال ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد اھ (3/ 240)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0