ایک امام کا مسجد ہے، اس کا کسی کے ساتھ کسی مسئلے پر بحث (مناظرہ) ہوجاتا ہے اور دوسرا آدمی اس کو غصہ دلاتا ہے کہ تمہارا عقیدہ ٹھیک نہیں ہے، یہ امام صاحب غصے میں آکر کہتا ہے ’’ہاں میں کافر ہوں تم کیا کرسکتے ہو‘‘، آیا یہ بات جو اس نے غصے میں کہہ دی، اس کی وجہ سے کیا اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ آیا اس کو دوبارہ کلمہ اور نکاح کی تجدید کرنا ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ وہ امام صاحب اب بھی نماز پڑھارہے ہیں اور خود بھی عالم ہیں۔
مذکورہ جملہ ’’ہاں میں کافر ہوں کیاکرسکتے ہو‘‘ سے عموماً مقابل کو چپ کرانا مقصود ہوتا ہے نہ کہ کفر کا اقرار کرنا، اس لیے مذکورہ امام کا نکاح و ایمان بدستور قائم ہے اور تجدید بھی کی ضرورت نہیں، البتہ جاہلوں کے سامنے ایسے جملے بولنا خود جہالت ہے، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ کسی غیر عالم کا جہالت کے باوجود اہلِ علم سے مباحثہ کرناجائز نہیں، اس سے بھی احتراز لازم ہے۔
وفی الشامية: الكفر لغة الستر وشرعًا: تکذیبه صلی اللہ علیه وسلم فی شیئ ما جاء به من الدین ضرورة اه (ج4، ص223) واللہ اعلم بالصواب!
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1