اگر ایک ماں طبعی وجوہات کی وجہ سے اپنے تین ماہ کے چھوٹے بچے کا اسقاطِ حمل کرے ، تو کیا وہ نفاس کے لۓ ۴۰ دن کا عرصہ گزارے گی؟ جیسا کہ عام بچے کی پیدائش پر ہوتا ہے۔
اگر بوقتِ اسقاطِ حمل کے بعض اجزاء مثلاً ہاتھ پیر وغیرہ بن گئے ہوں ، تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس ہے ، اور اگر اعضاء نہ بنے ہوں تو اس صورت میں اگر اسے حیض بنانا ممکن ہو تو وہ ماہواری کا خون کہلائےگا ، ورنہ استحاضہ کا۔
فی الدر المختار : (و سقط ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر ، و لا يستبين خلقه إلا بعد مائة و عشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء (إلی قوله) فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء ، و المرئي حيض إن دام ثلاثا و تقدمه طهر تام و إلا استحاضة اھ (1/ 302)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0