السلام علیکم !
حضرت میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ جو آج کل بینک سے کار ملتی ہے یا بینک قرضہ دیتا ہے تو کیا یہ لینا جائز ہے ؟ یا آج کل جو قسطوں کا لوگ کا روبار کرتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟
واضح ہو کہ اگر کوئی بینک یا دوسرا ادارہ گاڑی کی ملکیت اور اس پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد سے کسی بھی گاہگ پر درجِ ذیل شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے بیچ دے ،تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے اور وہ شرائط یہ ہیں:
(1) :مجلسِ عقد میں یہ بات طے ہو جائے کہ یہ معاملہ نقد ہے یا ادھار ۔
(۲):ا دھار کی صورت میں کل کتنی قیمت ہو گی، اور قسطیں کتنی ہونگی۔
(۳) :ہر قسط کی مالیت کتنی ہوگی۔
(۴) :اگر کوئی قسط مؤخر ہو جائے، تو اس پر مزید کوئی چارجز نہ ہوگا، بلکہ جو رقم مجلسِ عقد میں طے ہو چکی ہے ،وہی لی جائے گی، اس سے زائد نہیں ۔ جبکہ قسطوں پر خرید و فروخت کی صورت میں بھی مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ جائز اور درست ہے۔
كما في الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) (إلی قوله) ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه اھ (5/ 147)۔
و في الهداية شرح البداية: قال ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى { وأحل الله البيع } (3/ 22)۔
و في حاشية ابن عابدين: من البحر عن الخانية: و في جامع الفصولين: شراه ولم يقبضه حتى باعه البائع من آخر بأكثر فأجازه المشتري لم يجز؛ لأنه بيع ما لم يقبض اهـ (5/ 149)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: لزم كل الثمن حالا) لأن الأجل في نفسه ليس بمال، فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا اھ (5/ 142)۔
و في البحر الرائق: قوله ( ولو اشترى بألف نسيئة وباع بربح مائة ولم يبين خير المشتري ) لأن للأجل شبها بالمبيع ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل اھ (6/ 124)-
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0