مروجہ بینکاری

بینک کے ذریعہ کار لیزنگ پر لینا

فتوی نمبر :
10259
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / بینکاری / مروجہ بینکاری

بینک کے ذریعہ کار لیزنگ پر لینا

السلام علیکم !
حضرت میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ جو آج کل بینک سے کار ملتی ہے یا بینک قرضہ دیتا ہے تو کیا یہ لینا جائز ہے ؟ یا آج کل جو قسطوں کا لوگ کا روبار کرتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کوئی بینک یا دوسرا ادارہ گاڑی کی ملکیت اور اس پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد سے کسی بھی گاہگ پر درجِ ذیل شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے بیچ دے ،تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے اور وہ شرائط یہ ہیں:
(1) :مجلسِ عقد میں یہ بات طے ہو جائے کہ یہ معاملہ نقد ہے یا ادھار ۔
(۲):ا دھار کی صورت میں کل کتنی قیمت ہو گی، اور قسطیں کتنی ہونگی۔
(۳) :ہر قسط کی مالیت کتنی ہوگی۔
(۴) :اگر کوئی قسط مؤخر ہو جائے، تو اس پر مزید کوئی چارجز نہ ہوگا، بلکہ جو رقم مجلسِ عقد میں طے ہو چکی ہے ،وہی لی جائے گی، اس سے زائد نہیں ۔ جبکہ قسطوں پر خرید و فروخت کی صورت میں بھی مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) (إلی قوله) ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه اھ (5/ 147)۔
و في الهداية شرح البداية: قال ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى { وأحل الله البيع } (3/ 22)۔
و في حاشية ابن عابدين: من البحر عن الخانية: و في جامع الفصولين: شراه ولم يقبضه حتى باعه البائع من آخر بأكثر فأجازه المشتري لم يجز؛ لأنه بيع ما لم يقبض اهـ (5/ 149)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: لزم كل الثمن حالا) لأن الأجل في نفسه ليس بمال، فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا اھ (5/ 142)۔
و في البحر الرائق: قوله ( ولو اشترى بألف نسيئة وباع بربح مائة ولم يبين خير المشتري ) لأن للأجل شبها بالمبيع ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل اھ (6/ 124)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
نعمان احمد دینپوری عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10259کی تصدیق کریں
0     489
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • اے ٹی ایم کیلئے دکان کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اسکین   مروجہ بینکاری 0
  • سودی بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 1
  • ایم سی بی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • ریٹائرڈ بینکر کے گھر رشتہ ڈالنا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک اپلیکشن کے استعمال پر کیش بیک کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • حکومتی سبسڈی اسکیم کے تحت یو بی ایل بینک سے گاڑی خریدنا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • Engaging in conventional banks documents

    یونیکوڈ   انگلش   مروجہ بینکاری 0
  • سود کی رقم سے کنورزن (Conversion )فیس اداء کرنا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • کمرشل بینک کی ڈیوڈنڈ(منافع کی ایک صورت) کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • ایم سی بی بینک کے میچول فنڈ میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 1
  • سودی بینک میں ’’سیونگ اکاؤنٹ‘‘ کُھلوانا- کریڈٹ کارڈ کے استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • میزان بینک سے گھر بنوانے اور سولر پینل لگوانےکا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک میں منافع کے لئے رقم رکھوانا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • عام بینکوں کی لیزنگ کے بارے میں شرعی حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • ”البرکہ، المیزان ، الفلاح “کے ذریعہ کار لیزنگ کا حکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک سے لیز پر گاڑی خریدنے میں کیا شرائط ہیں؟

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • کاروبار کی غرض سے بینک سے قرض لینا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • دوست کے پیسے کوسود کے عوض معاف کروانا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • پاکستان میں اسلامی بینکنگ کی حقیقت اور شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • قطر بینک کےاسلامی یاغیر اسلامی ہونے کی وضاحت

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • بینک سے قرض لیکر مکان خریدنا

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
  • جامعہ بنوریہ کا اسلامی بنکاری کے بارے میں فتوی کیا ہے؟

    یونیکوڈ   مروجہ بینکاری 0
Related Topics متعلقه موضوعات