میں اپنی ساس کے لئے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جو کہ بیوہ ہیں اور ان کی عمر 70 سال سے اوپر ہے،ان کے پاس ایک گھر ہے اور کچھ رقم ہے بینک میں، نیشنل سیونگ اسکیم فار بہبود سرٹیفکیٹ فاربیوہ کے تحت ہے۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں ،لیکن داماد ہیں اور ایک داماد کو انہوں نے کچھ رقم کا روبار کرنے کے لیے دی تاکہ وہ گھریلو اخراجات کے لیے کچھ رقم دے لیکن وہ ناکام ہوا ، اب ان کے پاس صرف ایک ذریعہ وہ رقم ہے جو بینک میں ہے، میری بیوی اکثر اس بارے میں اپنی ماں سے لڑتی ہے اور ان سے کہتی ہے کہ وہ گھر کو کرائے پر دے دیں اور ایک چھوٹے کرائے کے گھر میں رہیں اور وہ اپنے گھر کے کرائے کے رقم میں سے کھائیں وہ سوچتی ہے کہ اس کی والدہ کو سود نہیں لینا چاہئے۔ میں ایک دوسری طرح سوچتا ہوں کہ میری ساس صرف اس رقم پر گزارا کر سکتی ہے اور جیسا کہ پاکستان حکومت ان کے لئے خرچ کا کوئی شرعی انتظام نہیں کرتی تو گناہ کا بوجھ حکومت پر ہے نہ کہ میری ساس پر، جو نہ کوئی کاروبار کر سکتی ہیں اور نہ کسی پر بھروسہ ؟ برائے مہربانی جواب دیجئے کہ کیا میری بیوی ایسا کرنے کی وجہ سے بے ادب ہے اور کیا میری ساس کی آمدنی واقعی سود ہے اور اگر ہم ان کے پاس جائیں تو ان کا تیار کیا ہوا کھانا کھا سکتے ہیں؟
نیشنل سیونگ میں رقم رکھوا کر اس کا سود کھانا جائز نہیں، اس لئے سائل کی ساس کو اگر کوئی معتمد آدمی کا روبار کے لیے میسر نہ ہو تو بامر مجبوری غیر سودی بینکوں میں رکھوا کر اس کا نفع لینے کی گنجائش ہے ، جبکہ اس وقت تک با مر مجبوری ان کے ہاں کھانے کی گنجائش ہوگی ۔
قال الله تبارك وتعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في الفتاوى الهندية: آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها كذا في الملتقط اھ (5/ 343)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0