ایک ریکروٹمنٹ (ہائرنگ) کمپنی ہے جو بینکوں اور دیگر اداروں کے لیے ملازمین بھرتی کرتی ہے۔ اسی ریکروٹمنٹ کمپنی کی طرف سے مجھے ایک بینک کے لیے ملازمت کی پیشکش ہوئی ہے۔
یعنی عملی طور پر میرا کام بینک کے لیے ہوگا، اگرچہ مجھے ملازمت ریکروٹمنٹ کمپنی دے رہی ہے۔
یہ بینک ایک روایتی (Conventional) بینک ہے، البتہ اس کے اندر اسلامی بینکنگ (Islamic Window) بھی موجود ہے، جیسے ADCB بینک میں ADCB Islamic کی سہولت موجود ہے۔
میری اسامی (Designation) **UI/UX Designer** کی ہے۔
میری ذمہ داری بینک کی موبائل ایپس، ویب سائٹس اور آن لائن پورٹلز کے ڈیزائن تیار کرنا ہوگی۔ میں بینک کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے یوزر انٹرفیس (UI) اور یوزر ایکسپیرینس (UX) ڈیزائن کروں گا۔ اگرچہ مجھے ہائر ریکروٹمنٹ کمپنی کر رہی ہے، لیکن میرا کام بینک کے لیے ہوگا۔
میرا کام براہِ راست سود (Interest) یا سودی حساب کتاب سے متعلق نہیں ہے۔ البتہ جن ایپس، ویب سائٹس یا پورٹلز کو میں ڈیزائن کروں گا، انہیں عام صارفین استعمال کریں گے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو سودی معاملات نہیں کرتے، اور وہ لوگ بھی جو بینک سے سود لیتے یا بینک کو سود ادا کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ اگر کسی مخصوص فیچر، صفحے یا پروڈکٹ میں سودی لین دین کا واضح اور براہِ راست تعلق ہو تو میں اس کے ڈیزائن پر کام کرنے سے انکار بھی کر سکتا ہوں۔
میری تنخواہ بھی براہِ راست بینک کی طرف سے نہیں بلکہ ریکروٹمنٹ کمپنی کی طرف سے ادا کی جائے گی۔
اس صورتِ حال میں، جبکہ بینک روایتی (Conventional) ہے لیکن اس میں اسلامی بینکنگ ونڈو بھی موجود ہے، اور میرا کام صرف UI/UX ڈیزائننگ کا ہے، کیا شرعی اعتبار سے ایسی ملازمت کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
کنونشنل بینک میں سائل کی مفوّضہ ذمہ داریاں اگر فقط بینک کی موبائل ایپس، ویب سائٹس اور آن لائن پورٹلز کے عمومی ڈیزائن تک محدود ہوں، سائل براہِ راست سودی لین دین، سودی معاہدات، سودی حساب کتاب یا ان کے لیے مخصوص فیچرز و صفحات کی تیاری میں شریک نہ ہو، نیز جن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سائل کام کرے، ان کا استعمال اسلامی بینکنگ (Islamic Window) اور دیگر عمومی جائز امور میں بھی ممکن ہو، تو ایسی ملازمت اختیار کرنے اور اس کی اجرت لینے کی گنجائش ہے، البتہ اگر سائل سے کسی ایسے فیچر یا پروڈکٹ کے ڈیزائن کا مطالبہ کیا جائے جو صراحتاً سودی قرضوں، سودی سرمایہ کاری یا دیگر ناجائز مالی معاملات کے لیے مخصوص ہو، تو اس پر کام کرنا تعاون علی الإثم کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا، لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی التنزیل العزیز: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدة، الآية: 2)
وفی الهدایة: کل ذٰلك یکره ولا یفسد به البیع؛ لِأَن الفساد في معنی خارج زائد لا في صلب العقد ولا في شرائط الصحة۔ (فصل فیما یکره، 51/3، ط: إدارة المعارف دیوبند)
وفی فقه البیوع: الإعانة علی المعصیة حرام مطلقا بنص القرآن، أعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان (المائدة: 2) وقوله تعالی: فلن أکون ظهیرا للمجرمین (القصص: 17) ولکن الإعانة حقیقة هی ما قامت المعصیة بعین فعل المعین، ولا یتحقق إلا بنیة الإعانة أو التصریح بها الخ۔ (192/1، ط: معارف القرآن)
و فیه أیضا: بیع الأشیاء إلیه (البنك): وفیه تفصیل، فإن کان المبیع مما یتمحض استخدامه فی عقد محرم شرعا، مثل برنامج الحاسوب الذی صمم للعملیات الربویة خاصة، فإن بیعه حرام للبنك وغیره، وکذلك بیع الحاسوب بقصد أن یستخدم فی ضبط العملیات المحرمة أو بتصریح ذلك فی العقد۔ أما بیع الأشیاء التی لیس لها علاقة مباشرة بالعملیات المحرمة، مثل السیارات أو المفروشات، فلیس حراما، وذلك لأنها لا یتمحض استخدامها فی عمل محظور۔ (264/2، ط: معارف القرآن)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0