مجھے بیرونِ ملک ایک روایتی (سودی) بینک کے ڈیٹا اینالیٹکس (Data Analytics) ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کی پیشکش ہوئی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً میرے لیے ایسی ملازمت قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ میں جس طرح سود کا لین دین حرام ہے اسی طرح سودی معاملات میں تعاون اور خدمات فراہم کرنا بھی حرام ہے،چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر ڈیٹا اینالیٹکس ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داریاں سودی لین دین، سودی مصنوعات، یا بینکنگ کے ربا پر مبنی نظام کی تیاری، تجزیہ یا معاونت سے متعلق ہوں تو ایسی ملازمت اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔البتہ اگر کسی صورت میں یہ کام مکمل طور پر غیر متعلقہ، عمومی اور سودی معاملات سے براہِ راست یا بالواسطہ معاونت سے خالی ہو (جو عملاً بہت کم ہوتا ہے)، تو اس کی تفصیل بیان کرکے اس متعلق دوبارہ حکم شرعی معلوم کیاجاسکتاہے۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0