اسلام و علیکم میرے شوہر اکثر مزاق میں مجھے کہتے ہیں تم میرے دوست کی بیوی ہوں وہ تمھارا شوہر ہے میں تمھارا بیٹا ہوں کیا ایسے کہنے سے نکاح پر کوئی اثر ہوتا ہے
سائلہ کے شوہر کا از راہ مذاق سوال میں مذکور جملہ "تم میرے دوست کی بیوی ہو"بولنے سے اگر چہ ان دونوں کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑا، لیکن اپنی بیوی کےلئے بطور مذاق بھی اس طرح کے کلمات استعمال کرنا اور اپنے آپ کو بیوی کا بیٹاقرار دینا کسی صورت بھی درست نہیں، بلکہ اپنی غیرت اور حمیت اسلامی کے بھی خلاف ہے، اس لئے سائلہ کے شوہر کو آئندہ اس طرح کے کلمات استعمال کرنے سے اجتناب چاہیے، نیز اس سلسلہ میں اگر سائلہ کی طرف سے اس دوست کے ساتھ کسی تعلق وغیرہ کا کوئی پہلو موجود ہو تو اس بارے میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی کا سبب نہ بنے۔
کما فی الشامیہ: ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه. ( باب الظهار، ج3، ص،470، ط: سعید)