کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و شرعِ متین اس بارے میں کہ زید نے اپنے سسر , بکر کو ایک ہی نشست میں تین بار کہا کہ اس نے اس کی بیٹی کو طلاق دے دی ہے , اس موقع پر زید کی بیوی موجود نہ تھی , پھر زید نے اپنے چند احباب کو ایس ایم ایس کر کے بھی بتا دیا کہ اس نے بکر کی بیٹی کو طلاق دے دی ہے , زید نے اپنی بیوی کے سامنے زبانی یا لکھ کر کسی بھی صورت میں نہیں کہاحتیٰ کہ بیوی کو ایس ایم ایس بھی نہیں لکھا کہ وہ اسے طلاق دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں طلاق ہو گئی؟
واضح ہو کہ بیوی کے سامنے طلاق دینا کوئی ضروری نہیں ہے ، بلکہ بیوی کی عدمِ موجودگی میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا بکر کی بیٹی اگر زید کے نکاح میں تھی تو زید کا بکر کو تین بار یہ کہنا کہ میں نے اس کی بیٹی کو طلاق دیدی ہے ، اس سے زید کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اگرچہ اس کی بیوی اس کے سامنے موجود نہ تھی ، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیردوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا , جبکہ لڑکی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے -