مفتی صاحب !میں آپ سے اس معاملے پر بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے بھائی نے اپنی بیوی کو مذاق سے کاغذ پر دو مرتبہ طلاق کا لفظ لکھ کے دیا تھا تو میں نے کہا کے یہ کفارہ دینا ہو گا ،اس میں کچھ وقت ا کیلئے رہ کر گزارنا ہوگا، ابھی ان کی نئی شادی ہوئی ہے، اور بھائی کہتا ہے کہ میں نے صرف ایسے ہی مذاق سے لکھا ہے براہ کرم اس میں اسلامی معلومات کے مطابق میری رہنمائی فرمائیں۔
مذاق میں دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور اس کے لئے کفارہ نہیں بلکہ رجوع یا تجدید نکات کی ضرورت پڑتی ہے، مگر سائل نے اپنے بھائی کے الفاظ طلاق تحریر نہیں کیئے کہ اس نے کیا الفاظ استعمال کئے تھے ؟ اور ایسی حرکت کیوں کی ؟ اگر سائل اسکی تفصیل اور بھائی کی تحریر لکھ کر بھیج دیں تو اس پر غور کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔
في مرقاة المفاتيح : عن ابى هريرۃ رضی الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « ثلاث جدھن جد وھزلھن جدالنكاح والطلاق والرجعة (الی قوله ) قال القاضي : اتفق أهل العلم على أن طلاق يقع الخ (6/427)۔ والله اعلم بالصواب