زید اور اسکی بیگم کے درمیان لڑائی واقع ہوئی , اس دوران زید کی بیوی نے کہا کہ مجھے ميرا مقرر مہر ادا کرو اور مجھے جانے دو زید نے جواباً کہا ہے کہ ٹھیک ہے اس کے بعد زید کی بیوی میکے چلی گئی , اب ان الفاظ کے بعد شرعاً کیا حکم ہے کہ ان الفاظ کی ادائیگی کے بعدخدا نخواستہ طلاق تو واقع نہیں ہوئی قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جواب عطا فرمائیں ؟
واضح ہو کہ اگر زید نے اپنی بیوی کے مطالبہ ’’مجھے میرا مقررہ مہر ادا کر دو اور مجھے جانے دو‘‘ کے جواب میں صرف یہی کہا ہو کہ ٹھیک ہے ، اس کے علاوہ طلاق کے الفاظ صراحتاً یا کنایتاً استعمال نہ کیے ہوں، تو ایسی صورت میں چونکہ یہ الفاظ نہ صریح طلاق کے ہیں ، اور نہ ہی کنا یہ کے ، اس لئے محض ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، البتہ اگر کچھ اور الفاظ اس کے بعد استعمال کیے ہوں تو ان کی وضاحت کر کے حکمِ شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
في الدر المختار وحاشیة ابن عابدین(ردالمحتار): كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا وفي غيرها إطلاقا، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق،(قوله هو ما اشتمل على الطلاق) أي على مادة ط ل ق صريحا، مثل أنت طالق، أو كناية كمطلقة بالتخفيف وكأنت ط ل ق وغيرهما كقول القاضي فرقت بينهما عند إباء الزوج الإسلام والعنة واللعان وسائر الكنايات المفيدة للرجعة والبينونةاھ(3/226)۔