کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارا ایک بڑا بھائی، جو شادی شدہ تھا، سال 2005ء میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد ہماری بیوہ بھابھی کا نکاح سال 2008ء میں ہمارے دوسرے بھائی کے ساتھ ہو گیا۔ ہمارے مرحوم بڑے بھائی کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی تھا۔ بھابھی کی دوسری شادی کے بعد ان کے سارے بچے اسی بھائی کے ساتھ رہتے ہیں جن سے بھابھی کا نکاح ہوا ہے۔اس کے بعد ہمارے والد صاحب کا سال 2020ء میں انتقال ہوا۔ وفات سے پہلے والد صاحب نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ زبانی وصیت کی تھی کہ'میرا جو فوت شدہ بیٹا ہے، میری جائیداد میں اس کا جتنا حصہ بنتا ہے، وہ میرے پوتے کو دیا جائے گا، یعنی میرے ایک بیٹے کے برابر حصہ میرے پوتے کا ہوگا۔' یہ وصیت زبانی تھی، تحریری نہیں ہے۔اب کچھ بھائی حصہ دینے پر راضی ہیں اور کچھ نہیں۔ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں، شریعتِ مطہرہ کی رو سے اس مسئلے کا حل بتائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
صورتِ مسئولہ میں والدِ مرحوم کے پوتے چونکہ شرعاً اس کی میراث میں حصہ دار نہیں بنتے، اس لیے ان کے حق میں کی گئی وصیت شرعاً درست ہے، جو مرحوم کے ترکے میں سے کفن دفن کے متوسط مصارف اور قرضہ جات منہا کرنے کے بعد بقیہ ترکے کے ایک تہائی کی حد تک ورثاء کی اجازت و مرضی کے بغیر بھی نافذ ہوگی، اور اس سے زائد ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی۔ لہذا والدِ مرحوم نے بیٹے کے حصے کے بقدر اپنے پوتوں، پوتیوں کے لیے جو وصیت کی ہے، وہ اگر ترکے کے ایک تہائی (1/3) یا اس سے کم ہو تو ورثاء کے ذمہ تقسیمِ ترکہ سے قبل والدِ مرحوم کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے مرحوم کے پوتے پوتیوں کو مرحوم بیٹے کے حصے کے بقدر حصہ دینا لازم اور ضروری ہوگا۔
کما فی البناية :قال: وإذا أوصى بنصيب ابنه فالوصية باطلة. ولو أوصى بمثل نصيب ابنه جاز؛ لأن الأول وصيته بمال الغير؛ لأن نصيب الابن ما يصيبه بعد الموت، والثاني وصية بمثل نصيب الابن، ومثل الشيء غيره، وإن كان يتقدر به فيجوز. وقال زفر - رحمه الله -: يجوز في الأول أيضا، فنظر إلى الحال، والكل ماله فيه. وجوابه ما قلنا.اھ(باب ما أوصى بسهم من ماله،ج:13،ص:419،ط:دار الكتب العلمية)
وفي الدر المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) يعني يعتبر كونه وارثه أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية على العكس إقرار المريض للوارث اھ(باب الوصایا، ج: ٦، ص: ٦٥٠، ط: سعيد)
وفي الهندية: ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية اھ( كتاب الوصايا ، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها ،ج:٦، ص: ٩٠، ط: ماجدية)