سعودی عرب میں ایک بینک ہے الراجی بینک۔وہ پرسنل لون دیتا ہے ان لوگوں کو جو وہاں پہ جاب کرتے ہیں ذاتی ضروریات کے لیے،بینک کا یہ کہنا ہے کہ ہم آپ کو پروڈکٹ سیل کرتے ہیں آپ چاہیں تو پروڈکٹ ہم سے لے لیں اور خود اس کو سیل کر کے اپنی ضرورت کو پورا کر لیں۔اور وقت طے کر لیں کتنے وقت میں پیسے واپسی دیں گے بینک کو ماہانہ اقساط کی مد میں،اگر اپ کے پاس خریدار نہیں ہے تو ہم آپ کا ایجنٹ بن کر آپ کو خریدار پرووائڈ کر دیں گے، آپ دونوں کا معاہدہ کروا کے پروڈکٹ سیل کر کے آپ کو کیش مل جائے گا۔الرجی بینک کا اپنا شریعہ بورڈ ہے، ان کے مطابق یہ شرعا جائز ہے اور حلال ہے،اس سارے پروسس کو بینک تورقtawaruq کہتا ہے، اب سوال میرا یہ ہے کیا یہ جائز ہے واقعی؟ اور شریعہ بورڈ کی کیا حیثیت ہے؟یا یہ ناجائز ہے سود ہے اور حیلا ہے؟
واضح ہو کہ کسی شخص کا ضرورت مند كو کوئی پراڈکٹ فروخت کرنا، اس غرض سے کہ وہ اس پرا ڈکٹ کو اپنی مرضی سے مارکیٹ میں فروخت کر دے، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نقدی سے اپنی ضرورت پوری کر لے، سرعاً "تورق" کا معاملہ کہلاتا ہے، جس کی شرعاً گنجائش ہے، لہذا مذکور بینک واقعۃً باقاعدہ مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کے ماتحت عقدِ "تورق" کی شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر کسٹمر سے معاملہ کرتا ہو، تو ایسے بینک کے ساتھ معاملہ کرنے کی گنجائش ہوگی،ورنہ نہیں۔
كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: التورق فی اصطلاح الفقهاء: أن یشتری المرء سلعة نسیئة، ثم یبیعها نقدًا لغیر البائع بأقل مما اشتراها به؛ لیحصل علی النقد (ص:46)
(إلى قوله) و حاصل ما ذکرنا أن التورق عملیة جائزة فی نفسها، و غاية ما فی الباب -کما قال ابن الهمام ؒ - أنه خلاف الأولی إن کان البائع یعلم أن المشتری محتاج إلی نقود لأغراضه الشخصية، ولا یشتری السلعة بثمن غال إلا بسبب حاجته إلیها، فلو کان فی مکنة البائع أن یقرضه النقود التی یحتاج إلیها فلا شك أنه الأفضل والأکثر أجراً، فترک الإقراض فی هذه الحالة واللجوء إلى بيع السلعة بثمن أکثر خلاف الأفضل (إلى قوله) وکذلك إن کان البائع یعرف أن المشتری المتورق یحتاج إلی سیولة نقدیة لأغراضه التجاریة، و مقصوده الحصول علی التمویل؛ فالأفضل للبائع أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة لکونهما طریقین مفضلین للتمویل، فالعدول عنهما إلی التورق خلاف الأولی کلما کان الطریق المفضل میسرًا، و لکن لا سبیل إلی القول بأنه یجب علیه أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة و لا یدخل فی التورق.
ولکن ما ذکرنا من جواز التورّق عند جمهور الفقهاء إنما یتأتی فی التورّق الذي هو عبارة عن عمیلتین بسیطتین: إحداهما شراء السلعة بالأجل، و ثانیتهما بیعها فی السوق عاجلا. و التورق الذی تصوره الفقهاء و حکموا بجوازه هو أن السلعة موجودة عند البائع مملوکة له ملکًا حقیقیًا، ثم تنتقل ملکیتها إلی المشتری بحکم البیع الحقیقی الذی تتبعه جمیع أحکام البیع. و لکن إذا اقترنت بهذه العملیة ملابسات أخری، فلا یبعد أن یتغیر الحکم، إما إلی عدم الجواز بتاتًا، أو إلی الکراهة، أو إلی ازدیاد بعدها عن العملیات المفضلة اهـ (البحث الخامس عشر: أحكام التورق وتطبيقاته المصرفية، ج:2 ص:46-61 ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)
وفي رد المحتار: قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود اهـ [كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة، ج:5 ص:326 ط: سعيد]
وفي المعاییر الشرعیة: .2 تعریف التورق و تمییزه عن بیع العینة: التورق: شراء سلعة بثمن آجل مساومة أو مرابحة ثم بیعها إلی غیر من اشتریت منه للحصول علی النقد بثمن حال. أما العینة: فهی شراء سلعة بثمن آجل و بیعها إلی من اشتریت منه بثمن حال أقل.
4. ضوابط صحة عملیة التورق: 4/5 وجوب أن یکون بیع السلعة (محل التورق) إلی غیر البائع الذی اشتریت منه بالأجل (طرف ثالث)؛ لتجنب العینة المحرمة، و ألا ترجع إلی البائع بشرط أو مواطأة أو عرف.
4/6 عدم الربط بین عقد شراء السلعة بالأجل و عقد بیعها بثمن حال، بطریقة تسلب العمیل حقه فی قبض السلعة، سواء کان الربط بالنص فی المستندات، أم بالعرف، أم بتصمیم الإجراءات اهـ (تعریف التورق و تمییزه عن بیع العینة و ضوابط صحة عملیة التورق، ص: 605 ط: AAOIFI )