اسلامی بینکاری

سعودیہ کے الراجی بینک سے لون لینا

فتوی نمبر :
93070
| تاریخ :
2026-03-09
جدید فقہی مسائل / بینکاری / اسلامی بینکاری

سعودیہ کے الراجی بینک سے لون لینا

سعودی عرب میں ایک بینک ہے الراجی بینک۔وہ پرسنل لون دیتا ہے ان لوگوں کو جو وہاں پہ جاب کرتے ہیں ذاتی ضروریات کے لیے،بینک کا یہ کہنا ہے کہ ہم آپ کو پروڈکٹ سیل کرتے ہیں آپ چاہیں تو پروڈکٹ ہم سے لے لیں اور خود اس کو سیل کر کے اپنی ضرورت کو پورا کر لیں۔اور وقت طے کر لیں کتنے وقت میں پیسے واپسی دیں گے بینک کو ماہانہ اقساط کی مد میں،اگر اپ کے پاس خریدار نہیں ہے تو ہم آپ کا ایجنٹ بن کر آپ کو خریدار پرووائڈ کر دیں گے، آپ دونوں کا معاہدہ کروا کے پروڈکٹ سیل کر کے آپ کو کیش مل جائے گا۔الرجی بینک کا اپنا شریعہ بورڈ ہے، ان کے مطابق یہ شرعا جائز ہے اور حلال ہے،اس سارے پروسس کو بینک تورقtawaruq کہتا ہے، اب سوال میرا یہ ہے کیا یہ جائز ہے واقعی؟ اور شریعہ بورڈ کی کیا حیثیت ہے؟یا یہ ناجائز ہے سود ہے اور حیلا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی شخص کا ضرورت مند كو کوئی پراڈکٹ فروخت کرنا، اس غرض سے کہ وہ اس پرا ڈکٹ کو اپنی مرضی سے مارکیٹ میں فروخت کر دے، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نقدی سے اپنی ضرورت پوری کر لے، سرعاً "تورق" کا معاملہ کہلاتا ہے، جس کی شرعاً گنجائش ہے، لہذا مذکور بینک واقعۃً باقاعدہ مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کے ماتحت عقدِ "تورق" کی شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر کسٹمر سے معاملہ کرتا ہو، تو ایسے بینک کے ساتھ معاملہ کرنے کی گنجائش ہوگی،ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: التورق فی اصطلاح الفقهاء: أن یشتری المرء سلعة نسیئة، ثم یبیعها نقدًا لغیر البائع بأقل مما اشتراها به؛ لیحصل علی النقد (ص:46)
(إلى قوله) و حاصل ما ذکرنا أن التورق عملیة جائزة فی نفسها، و غاية ما فی الباب -کما قال ابن الهمام ؒ - أنه خلاف الأولی إن کان البائع یعلم أن المشتری محتاج إلی نقود لأغراضه الشخصية، ولا یشتری السلعة بثمن غال إلا بسبب حاجته إلیها، فلو کان فی مکنة البائع أن یقرضه النقود التی یحتاج إلیها فلا شك أنه الأفضل والأکثر أجراً، فترک الإقراض فی هذه الحالة واللجوء إلى بيع السلعة بثمن أکثر خلاف الأفضل (إلى قوله) وکذلك إن کان البائع یعرف أن المشتری المتورق یحتاج إلی سیولة نقدیة لأغراضه التجاریة، و مقصوده الحصول علی التمویل؛ فالأفضل للبائع أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة لکونهما طریقین مفضلین للتمویل، فالعدول عنهما إلی التورق خلاف الأولی کلما کان الطریق المفضل میسرًا، و لکن لا سبیل إلی القول بأنه یجب علیه أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة و لا یدخل فی التورق.
ولکن ما ذکرنا من جواز التورّق عند جمهور الفقهاء إنما یتأتی فی التورّق الذي هو عبارة عن عمیلتین بسیطتین: إحداهما شراء السلعة بالأجل، و ثانیتهما بیعها فی السوق عاجلا. و التورق الذی تصوره الفقهاء و حکموا بجوازه هو أن السلعة موجودة عند البائع مملوکة له ملکًا حقیقیًا، ثم تنتقل ملکیتها إلی المشتری بحکم البیع الحقیقی الذی تتبعه جمیع أحکام البیع. و لکن إذا اقترنت بهذه العملیة ملابسات أخری، فلا یبعد أن یتغیر الحکم، إما إلی عدم الجواز بتاتًا، أو إلی الکراهة، أو إلی ازدیاد بعدها عن العملیات المفضلة اهـ (البحث الخامس عشر: أحكام التورق وتطبيقاته المصرفية، ج:2 ص:46-61 ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)
وفي رد المحتار: قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود اهـ [كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة، ج:5 ص:326 ط: سعيد]
وفي المعاییر الشرعیة: .2 تعریف التورق و تمییزه عن بیع العینة: التورق: شراء سلعة بثمن آجل مساومة أو مرابحة ثم بیعها إلی غیر من اشتریت منه للحصول علی النقد بثمن حال. أما العینة: فهی شراء سلعة بثمن آجل و بیعها إلی من اشتریت منه بثمن حال أقل.
4. ضوابط صحة عملیة التورق: 4/5 وجوب أن یکون بیع السلعة (محل التورق) إلی غیر البائع الذی اشتریت منه بالأجل (طرف ثالث)؛ لتجنب العینة المحرمة، و ألا ترجع إلی البائع بشرط أو مواطأة أو عرف.
4/6 عدم الربط بین عقد شراء السلعة بالأجل و عقد بیعها بثمن حال، بطریقة تسلب العمیل حقه فی قبض السلعة، سواء کان الربط بالنص فی المستندات، أم بالعرف، أم بتصمیم الإجراءات اهـ (تعریف التورق و تمییزه عن بیع العینة و ضوابط صحة عملیة التورق، ص: 605 ط: AAOIFI )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93070کی تصدیق کریں
1     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کی شرائط

    یونیکوڈ   اسکین   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے ساتھ ، ہر قسم کے مالی معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • خیبر بینک سےمتعلق سوال

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انوسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 8
  • میزان بینک سے گھر تعمیر کرنے کیلئے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • بینک الفلاح اسلامک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • "فرسٹ پنجاب مضاربہ بینک" سے لون لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل شدہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • مروجہ اسلامی بینکوں سے قرضہ لینا - اشتراک کرنا - یا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے سیوئنگ اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرنا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ اور منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • اسلامی بینکوں میں ملازمت اور ان سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • اسلامی بینک کے ذریعہ منافع کمانا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • Ruling regarding savings accounts on Islamic Banks

    یونیکوڈ   انگلش   اسلامی بینکاری 0
  • Ruling on Meezan Banks car financing

    یونیکوڈ   انگلش   اسلامی بینکاری 0
  • مروجہ اسلامی بینکوں کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان میں پیسے رکھ کر منافع کمانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • اسلامک بینک میں انویسٹمنٹ کرکے منافع لینا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • اسلامی بینک کے ذریعہ منافع کمانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • میزان بینک کے "ماہانہ آمدنی"پروگرام میں انویسٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
Related Topics متعلقه موضوعات