کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا بھائی چائنا میں جاب کرتا ہے، جانے سے پہلے اس نے اپنے ہوش و حواس میں منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کر دئے تھے ،اب معلوم کرنا ہے کہ اس طلاق نامہ کی روشنی میں ان کی بیوی کو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اگر وہ لوگ اس طلاق کو نہ جانتے ہوں ،تو پھر کیا حکم ہے؟جوبھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔نوٹ: طلاق نامہ میں یہ الفاظ تحریری موجود ہیں،"میں اپنے ہوش و حواس میں ہوتے ہوئےاپنی بیوی مسماۃ۔۔۔۔ کو اپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں،اور میں اپنی بیوی کو آزاد کرتا ہوں،وہ جس سے چاہے شادی کرسکتی ہے،میں ۔۔۔ کو طلاق دیتا ہوں،یہ جملہ تین مرتبہ لکھا ہوا ہے"۔
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ کا عکس اگر مطابق باصل ہو تو اس سے سائل کے بھائی کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ بکاح شرعاً درست ہے،نیز عورت عدت گذرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الشامیۃ: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي اھ(باب الکنایات، ج:3،ص:299، ط:سعید)
وفیھاایضاً: تحت (قوله كتب الطلاق إلخ)وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ (مطلب في الطلاق بالكتابة،ج:3،ص:246،م:سعيد)