السلام علیکم،
میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے جب میں حمل میں تھی، غصے میں کہا کہ "جاؤ، تمہیں طلاق" پھر بعد میں رجوع بھی ہوا۔ لیکن اس کے بعد وہ اس بات کا انکار کرنے لگے کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔
پھر ۳ سال بعد بھی لڑائی میں ایسے ہی کہا کہ طلاق، مجھے صحیح سے یاد نہیں، لیکن وہ انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا۔
تو کیا ہماری طلاق ہو گئی ہے؟
واضح ہو کہ غصہ کی کیفیت اور حالت حمل، دونوں صورتوں میں طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے غصہ کی حالت میں واقعۃً یہ الفاظ کہے ہوں: "جاؤ، تمہیں طلاق" تو ان الفاظ سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی تھی، تا ہم اگر سائلہ کے شوہر نے وضع حمل سے پہلے قولاً یا فعلاً رجوع کر لیا تھا تو رجوع صحیح ہو گیا تھا، جس کے بعد ان کا بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا بھی جائز اور درست تھا، اسی طرح تین سال بعد جھگڑے میں اگر واقعی سائلہ کے شوہر نے لفظ "طلاق" صراحتاً کہا ہو تو اس سے مزید ایک اور طلاق واقع ہو چکی ہے، اس کے بعد بھی عدت کے دوران شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، جبكہ سائلہ کے شوہر کے پاس آئندہ کے لیے فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا، اس لیے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 247، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة. (باب الرجعة، ج: 3، ص: 397-398)
وفيه أيضا: (و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها).اهـ (باب العدة، ج: 3، ص: 511، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار: ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها.إلخ
وفي رد المحتار: قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية.اهـ (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 248)
وفي الدر المختار أيضا: قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.(باب الكنايات، ج: 3، ص: 305)
وفي الدر المختار: نعم لو طلقها وهو مقيم معها يعاشرها معاشرة الأزواج ليس لها التزوج لعدم انقضاء عدتها منه كما سيأتي بيانه في العدة.اهـ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 421)
وفيه أيضا: (واعتبار عدده بالنساء) وعند الشافعي بالرجال (فطلاق حرة ثلاث.اهـ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 246)