بیتُ الخلا میں کموڈ پر سنت کے مطابق کیسے بیٹھیں؟ میں ہینڈل پکڑ کر اُکڑوں بیٹھا ہوں۔
احادیث مبارکہ میں قضاء حاجت کے لیے اس انداز سے بیٹھنے کی تعلیم ملتی ہے کہ بائیں طرف جھک کر بائیں پیر پر زور دے کر بیٹھا جائے، جبکہ اس طرح بیٹھنا بھی کوئی لازم اور ضروری نہیں ،بلکہ سنن عادیہ کے قبیل کا ایک عمل ہے، اور چونکہ عام ڈبلىوسی میں بیٹھتے وقت اس پر عمل ممکن ہے، اس لیے اس کا اہتمام بھی چاہیے، مگر کموڈ استعمال کرتے وقت اس انداز سے بیٹھنا مشکل ہوتا ہے ،اس لیے کموڈ استعمال کرتے وقت اس انداز سے بیٹھنے کا اہتمام ضروری ہے کہ جسم ناپاکی سے محفوظ رہ سکے، جو کہ فرض ہے اور اس کا اہتمام لازم ہے۔
كما في السنن الكبرى للبيهقي: عن محمد بن عبد الرحمن، عن رجل من بني مدلج، عن أبيه، قال: قدم علينا سراقة بن جعشم، فقال: علمنا رسول الله ﷺ " إذا دخل أحدنا الخلاء أن يعتمد اليسرى، وينصب اليمنى ". [رقم الحديث (457) ج:1 ص:156 ط: العلمية]
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: يعتمد في حال جلوسه على رجله اليسرى، لأنه أسهل لخروج الخارج، ولما رواه الطبراني عن سراقة بن مالك قال: «أمرنا رسول الله ﷺ أن نتوكأ على اليسرى، وأن ننصب اليمنى» ويوسع فيما بين رجليه الخ [آداب قضاء الحاجة، ج:1 ص:355 ط: دار الفكر سورية]
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0