السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب معلوم یہ کرنا ہے کہ داڑھی کی شرعی مقدار کیا ہے؟ سعودیہ میں دیکھا گیا ہے کہ ان کی داڑھی بہت کم بلکہ فرینچ کٹ ہوتی ہے، کیا اایسی داڑھی شرعاً جائز ہے؟
احادیث صحیحہ کی روشنی میں باجماع امت داڑھی رکھنا واجب ہے، اور اس کا منڈانا حرام ہے، اسی طرح ایک قبضہ (مٹھی) سے کم ہونے کی صورت میں کتروانا بھی حرام ہے، آئمہ اربعہ حنفیہ / مالکیہ ، شافعیہ ، حنبلیہ کا اس پر اتفاق ہے، لہذا کسی خاص علاقہ کے لوگوں کا حدود شرعیہ سے ہٹ کر مذکورہ طرز عمل اختیار کرنے سے اس کو جواز نہیں مل جاتا ، اس لیے مذکورہ علاقہ کے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس گناہ والے طرز عمل پر توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس سے احتراز کریں۔
کما فی صحیح مسلم: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى» (1/222 رقم الحدیث 259)۔
وفی الدرالمختار: وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح. الخ (2/418)۔
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0