السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امام صاحب!ادب کے ساتھ ایک شرعی رہنمائی درکار ہے۔
میں MCB بینک کے Alhamra Saving Account (iSave Application) میں اپنی رقم محفوظ رکھتا ہوں۔ اس اکاؤنٹ میں بینک کی طرف سے رقم پر ہر ماہ/سال کچھ فیصد اضافہ (Profit/Increment) دیا جاتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا MCB Alhamra Saving Account میں ملنے والا یہ منافع سود (ربا) کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
کیا اس اکاؤنٹ میں رقم رکھنا اور اس پر ملنے والا اضافہ شرعی طور پر حلال ہے؟اگر بینک اسے کسی اسلامی اصول (جیسے مضاربہ) کے تحت ظاہر کرتا ہے تو کیا یہ واقعی شریعت کے مطابق ہوتا ہے؟
اگر یہ حلال نہیں ہے تو ایسے اکاؤنٹ کے بارے میں شرعی رہنمائی کیا ہے، اور کون سا حلال متبادل اختیار کیا جائے؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
"مسلم کمرشل بینک "کے سیونگ اکاونٹ میں جمع کردہ رقم کی حیثیت چونکہ قرض کی ہوتی ہے، اور قرض پر کوئی بھی مشروط یا معروف نفع حاصل کرنا شرعاً سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، تاہم اگر مذکور اکاونٹ MCB کے مستقل اسلامک ونڈو میں کھو لا گیا ہو اور اس کے تمام معاملات کو مستند مفتیان کرام کے مستقل شریعہ بورڈ کے زیرِ نگرانی میں انجام دیئے جاتے ہوں تو اس صورت میں مذکور اکاونٹ سے حاصل ہونے والے منافع استعما ل کرنے کی گنجائش ہوگی، ورنہ نہیں ۔
كما فی صحیح مسلم: عن جابر، قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.اھ(باب لعن الآکل الربا والموکلہ ،ج:3 ص: 1219 ناشر:القاہرۃ)
وفی بدائع الصنائع: فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب،الخ( فصل فی شرائط رکن القرض ، ج:7 ص :395 ناشر : سعید)