میں دبئی اسلامک بینک کی شریعہ کمپلائنٹ اسلامی آٹو فنانسنگ کے ذریعے چند گاڑیاں خریدنا چاہتا ہوں۔ اس اسکیم کے ساتھ شریعہ سرٹیفکیٹ اور شرائط و ضوابط بھی دیے گئے ہیں۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ طریقہ شرعاً حلال اور جائز ہے اور مکمل طور پر شریعہ کے مطابق ہے؟ازراہِ کرم اس بارے میں تحریری فتویٰ مرحمت فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں دبئی اسلامک بینک کی اسلامی آٹو فنانسنگ اسکیم جو مرابحہ کی بنیاد پر پیش کی گئی ہے، اس کے طریقہ کار ، شرائط ، ضوابط اور وارننگز کو تفصیل کے ساتھ ملاحظہ کیا گیا، جس میں وہ تمام بنیادی امور پائے جاتے ہیں جو اس معاملے کے شرعی جواز کے لیے ضروری ہیں کہ بینک پہلے خود گاڑی خرید کر اس کی ملکیت اور قبضہ حاصل کرتا ہے، پھر اپنی طے شدہ لاگت اور متعین منافع کے ساتھ گاہک کو مرابحہ کے ذریعے فروخت کرتا ہے، قیمت اور اقساط ابتدا ہی میں معلوم و متعین ہوتی ہیں، تاخیر ادائیگی پر کوئی سودی جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا بلکہ صرف ایسا عطیہ مقرر ہے جو بینک کی آمدنی نہیں بنتا، قبل از وقت ادائیگی کی صورت میں رعایت مشروط نہیں بلکہ بینک کی صوابدید پر ہے، اور سیکیورٹی، رہن، ضمانت یا دیگر قانونی و انتظامی شقیں بھی خلافِ شریعت معلوم نہیں ہوتیں۔چنانچہ یہ معاملات اگر محض کاغذی کارروائی کی حد تک محدود نہ ہوں بلکہ بینک عملی طور پر بھی مستند مفتیانِ کرام کی زیر نگرانی منسلکہ دستاویزات کے مطابق عمل کرے اور کسی مرحلے پر کوئی امر خلافِ شریعت نہ پایا جائے، تو ایسی صورت میں یہ آٹو فنانسنگ اسکیم شرعاً جائز اور درست ہے۔
ففي الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531)
وفي المبسوط : المبسوط للسرخسي: وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 8)
بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة: " أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد".(12/1، ط: دار العلوم کراتشی)