مکروہات

جہری ذکر کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
90051
| تاریخ :
2025-12-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مکروہات

جہری ذکر کرنے کا حکم

اگر کوئی جماعت اونچی آواز سے مل کر ذکر کریں
اور ہر ہفتے اس چیز کی اعلانیہ دعوت بھی چلائی جائے اور اس کا وقت اور دن بھی مقرر کر دیا جائے کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟اور ان سے پوچھنے پر یہ جواب دیا جاتا ہے کہ یہ عبادت کا سوچ کر نہیں کیا جاتا بلکہ لوگو ں کو ذکر کرنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے اسی لیے کیا جاتا ہے
کیا یہ بدعت تو نہیں؟؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ ذکر اللہ ایک ایسی عبادت ہےجس کی کثرت مطلوب ہےاورقرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ذکر اللہ کے بہت فضائل وارد ہوئے ہیں ،بایں ہمہ ذکر اللہ کیلئے کسی ہیئت یاوقت کی تعیین نہیں کی گئ ا لا یہ کہ کوئ مانع شرعی ہو جیسے قضاء حاجت یا کسی کو ایذا ء رسانی یا عبادت میں خلل کا خدشہ ہو تو اس سے ممانعت آیئ ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہو کہ جہراً اور سراً یعنی اونچی آواز اور آہستہ دونوں طرح ذکر جائز ہے البتہ ذکر سری افضل ہے۔چنانچہ صورت مسئولہ میں بھی کسی مستند سلسلہ کے متبع شریعت شخص کی نگرانی اور راہنمائ میں اگر کبھی کبھار(اور انتظامی آسانی کیلئے وقت اور دن کی تعیین کے ساتھ) اصلاح خلق کی غرض سے حدود شریعت کے اندر رہتے ہوئےاگر اجتماعی مجالس ذکر کا انعقاد کیا جائے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تفسیر المظھری: اعلم ان الذكر على ثلثة مراتب أحدها الجهر ورفع الصوت بها وذلك مكروه اجماعا الا إذا دعت اليه داعية واقتضته حكمة فحينئذ قد يكون أفضل من الإخفاء كالاذان والتلبية ونحو ذلك ولعل الصوفية الچشتية قدس الله تعالى أسرارهم اختاروا الجهر للمبتدى لاقتضاء حكمة وهى طرد الشيطان ودفع الغفلة والنسيان وحرارة القلب واشتغال نائرة الحب بالرياضة ومع ذلك يشترط لذلك الاحتراز عن الرياء والسمعة ثانيها الذكر باللسان سرّا وهو المراد بقوله صلى الله عليه واله وسلم لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله رواه الترمذي وابن ماجة وروى احمد والترمذي قيل اى الأعمال أفضل قال ان تفارق الدنيا ولسانك رطب من ذكر الله وعن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى اللہ عليه واله وسلم ان لله ملئكة يطوفون فى الطرق يلتمسون اهل الذكر فاذا وجدوا قومايذكرون الله تنادوا هلموا الى حاجتكم قال فيحفونهم بأجنحتهم الى سماء الدنيا قال فيسئلهم ربهم وهو اعلم بهم ما يقولون عبادى قال يقولون يسبحونك ويكبرونك ويحمدونك ويمجدونك قال فيقول هل رأونى قال فيقولون لا والله ما رأوك قال فيقول كيف لو رأونى قال فيقولون لو رأوك كانوا أشد لك عبادة وأشد لك تمجيدا واكثر لك تسبيحا قال فيقول فما يسئلون قالوا يسئلونك الجنة قال فيقول وهل رأوها قال فيقولون لا والله يا رب ما رأوها قال يقول فكيف لو رأوها قال يقولون لو انهم رأوها كانوا أشد عليها حرصا وأشد لها طلبا وأعظم فيها رغبة قال فمم يتعوذون قال يقولون من النار قال فيقول فهل راوها قال يقولون لا والله يا رب ما رأوها قال يقول فكيف لو رأوها قال يقولون لو رأوها كانوا أشد منها فرارا وأشد لها مخافة قال فيقول فاشهدوا انى قد غفرت لهم قال يقول ملك من الملئكة فيهم فلان ليس بينهم انما جاء لحاجة قال هم الجلساء لا يشقى جليسهم رواه البخاري ومسلم نحوه وثالثها الذكر بالقلب والروح والنفس وغيرها الذي لا مدخل فيه للسان وهو الذكر الخفي الذي لا يسمعه الحفظة اخرج ابو يعلى عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه واله وسلم لفضل الذكر الخفي الذي لا يسمعه الحفظة سبعون ضعفا إذا كان يوم القيامة وجمع الله الخلائق لحسابهم وجاءتالحفظة بما حفظوا وكتبوا قال لهم انظروا هل بقي له من شىء فيقولون ما تركنا شيئا مما علمناه وحفظناه الا وقد أحصيناه وكتبناه فيقول الله تعالى ان له حسنا لا تعلمه وأخبرك به هو الذكر الخفي۔(ج:3،ص:362،مط:مکتبہ رشیدیہ)
وفی مشکاۃ المصابیح: وعن شقيق: كان عبد الله يذكر الناس في كل خميس فقال له رجل يا أبا عبد الرحمن لوددت أنك ذكرتنا كل يوم قال أما إنه يمنعني من ذلك أني أكره أن أملكم وإني أتخولكم بالموعظة كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخولنابہامخافةالسآمةعلينا۔(کتاب العلم ،ج:1،ص:33)
وفی رد المحتار: وأما رفع الصوت بالذكر فجائز كما في الأذان والخطبة والجمعة والحج وقد حرر المسألة في الخيرية وحمل ما في فتاوى القاضي على الجهر المضر وقال: إن هناك أحاديث اقتضت طلب الجهر، وأحاديث طلب الإسرار والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال، فالإسرار أفضل حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام والجهر أفضل حيث خلا مما ذكر، لأنه أكثر عملا ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فيجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم ويزيد النشاط اهـ ملخصا۔(ج؛4،ص:398،مط:ایچ ایم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90051کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا رات کو ںاخن کاٹے جاسکتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کھڑے ہوکر وضو اور پیشاب کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • مرد کے لئے اپنے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • اجرت پرھوم ورک اوراسائنمنٹ تیارکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 2
  • سینے سے بال صاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • کیا ذی الحجہ کے دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنا حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • مرد کا بھنویں اکھاڑنے اور اس پر پکا کلر کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کم عمربچوں سے اشعارپڑھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • آن لائن فوڈ ایپ کے واؤچر کا غلط استعمال

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا-زیر ناف بال کاٹنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • کافر کا جوٹھا استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • بینک ملازم کے لڑکے کو بیٹی کا رشتہ دینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مونچھ مونڈھنا-زیرِ ناف صفائی کے لۓ کریم - پاؤڈر کا استعمال

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • چیس گیم کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پیچ شدہ موبائل خریدنے اور خود موبائل پیچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء مخصوصہ کو چومنے اورچاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے ہجرت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • پینے کیلئے رکھے ہوئے پانی سے ہاتھ دھونا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مشغلہ اور کھیل کے طور پر شکار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میت کے گھر میں تین دن تک کھانا کھانا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • لوگوں کے سامنے اپنی بزرگی بیان کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • عورت کا باپردہ ہو کر اپنی آواز میں, یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیو اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • مرحوم والد صاحب کی تصویریں شیئر کرتے رہنا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پب جی گیم کھیلنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
Related Topics متعلقه موضوعات