السلام علیکم ! ہمارے بہنوئی صاحب نے ابھی کچھ دن پہلے مجھے ایک میسج دکھایا ،جو ایک عالم صاحب نے بھیجا تھا ،اور ان کے مطابق ذی الحجہ کے دس دنوں میں مردوں کا بال کٹوانا اور ناخن کاٹنا سخت گناہ اور شاید ان کے بقول حرام ہے ،جبکہ میری معلومات کے مطابق مستحب ہے ۔
ذی الحجہ کے دس ایام میں بال ،ناخن وغیرہ کٹوانا بلا شبہ درست ہے ،البتہ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف قربانی کرنے والے شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ ذی الحجہ کے ابتدائی عشرہ میں بال اور ناخن نہ کاٹے بشرطیکہ اس کو بڑے ہوئے چالیس دن نہ گزرے ہو ں۔
کما فی صحیح المسلم : عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، تَرْفَعُهُ، قَالَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا، وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا» اھ (2/160)۔