السلام علیکم! مفتی صاحب! میں دو چیزیں جاننا چاہتا ہوں: (۱) آپ کا فتویٰ ان طلباء کے بارے میں کیا ہے جو دوسرے لوگوں کو اجرت پر لیتے ہیں اپنا ہوم ورک کرنے کیلئے، مثال کے طور پر عربی لوگ اکثر کسی پاکستانی یا ہندوستانی کو اُجرت پر لیتے ہیں جوان کے ہوم ورک اور اسائمنٹ کرتے ہیں، یہ اپنے طور پر ایک انڈسٹری کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
(۲) تمام جدید معلومات کتابوں اور کاغذات کے ضمن میں بہت مہنگے ہیں تو میرے پاس کافی رقم نہیں ہے تو میں کہاں سے ان کتابوں کو خریدوں؟ میں اپنے کیرئیر اور معلومات کو بڑھاؤں، اس کا میرے پاس ایک ہی ذریعہ ہے کہ میں بعض روسی ویب سائٹس پر جاؤں جہاں سے میں چوری شدہ تحقیقی کاغذات کو ڈاؤن لوڈ کروں جو کہ منسلک ہوتے ہیں بین الاقوامی مکتبوں سے اور ہم صرف ان کاغذات کو استعمال کرتے ہیں اس قیمت پر جو ان کمپینوں نے ادا کی ہوتی ہے، مثلاً آپ قیمت ادا کریں ایک کنال کی اپنے طلباء کیلئے، لیکن ہم بھی اس سے زیادہ یا تھوڑا پانی پیتے ہیں جب ہمیں کوئی اور ذریعہ نہیں ملتا پانی پینے کیلئے۔
طلباء کرام کا اپنا ہوم ورک، اسائنمنٹ وغیرہ جو ادارہ وغیرہ کی طرف سے ان کو خود کرنا لازم ہو، اور اس کے لکھنے اور تیاری میں کسی طرح کی معاونت لینا قانوناً جرم ہو، ایسا کام کسی اور سے کرانا چونکہ خیانت، دھوکہ دہی اور اپنی تعلیمی صلاحیت کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹ کی بناء شرعاً بھی ناجائز ہے، ایسے طلباء پر لازم ہے کہ اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے اور لوگوں کو دھوکہ دہی سے بچانے کیلئے یہ تمام کام خود سر انجام دیں، اور جو لوگ ہوم ورک اور اسائنمنٹ وغیرہ حل کرکے اُجرت وصول کرتے ہیں وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں تاہم اس کی اجرت لینا کراہت سے خالی نہیں، اس لئے اس طرح کے معاملات سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ ویب سائٹ پر دیئے گئے تحقیقی مقالات کو پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کی صراحۃً یا دلالۃً عام اجازت نہ ہو بلکہ جن لوگوں یا کمپنیوں نے فیس کی صورت میں رقم دی ہوئی ہوتی ہے صرف ان کیلئے پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کی اجازت ہو تو ایسی صورت میں کسی تکنیکی ترکیب سے ان مقالات تک رسائی حاصل کرکے اس کو ڈاؤن لوڈ کرنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔