حضرت مفتی صاحب! بندہ ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہے، بندہ نے کچھ فتاویٰ پڑھے جن میں لکھا ہے کہ ’’امرد‘‘ سے اشعار پڑھوانا مکروہ ہے، بعض میں اشعار پڑھنے کی شرائط میں لکھا ہے ’’امرد‘‘ نہ ہو، لیکن بندے نے بعض مدارس میں دیکھا اور بہت سے مدارس کے بارے میں سنا ہے کہ ان کی تقریب میں امرد اشعار پڑھ رہے ہیں۔
اب یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ہم فتاویٰ کو صحیح سمجھیں یا ان مدارس کے عمل کو؟ مہربانی فرماکر اس اُلجھن کو دور فرمادیں۔
امرد سے اشعار پڑھوانا وہاں مکروہ ہے جہاں ’’امرد‘‘ کے صبیح الوجہ وغیرہ ہونے کی وجہ سے فتنہ کا اندیشہ ہو اور جہاں خوف فتنہ نہ ہو وہاں ’’امرد‘‘ سے اشعار پڑھوانا مکروہ نہیں، لہٰذا دونوں میں کوئی تعارض نہ رہا۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ ولو امرد صبیح الوجہ) واما الخلوۃ والنظر الیہ لاعن شہوۃ فلا بأس بہ ولذا لم یؤمر بالنقاب۔ اھـ (ج۶، ص۳۶۵)۔ واللہ اعلم بالصواب