کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ اسلام کی کیا تعلیمات ہیں شکاری جانوروں کے متعلق ؟ مثلاً چیل ، کوے ، ریچھ ، جنگلی کتے وغیرہ کا شکار ، صرف کھیل کے طور سے کیا جائے ، جبکہ انہیں صرف شکار کیا جاتا ہے لیکن کھایا نہیں جاتا ، ہم کو حضور ﷺ کا حکم ہے کہ ’’مارو کوے، بچھو، چوہا، چیل اور بیمار کتے کو‘‘ کیا یہ اجازت ہم شکار کیلئے استعمال کرسکتے ہیں؟
کھانے کے علاوہ جن جانوروں کے گوشت ، کھال ، اور پروں سے کوئی فائدہ حاصل کیا جاتا ہو یا کسی جانور کے شر سے بچاؤ مقصود ہو تو ایسے تمام جانوروں کا شکار کرنا یا انہیں قتل کرنا جائز اور درست ہے ، اور سوال میں مذکور جانوروں کا مارنا ، ان کے ضرر سے بچاؤ کی خاطر ہے البتہ بلاوجہ کسی جانور کو قتل کرنا مکروہ ہے۔
عن ابن عمرؓ عن النبی ﷺ قال خمسٌ لا جناح علٰی من قتلہن فی الحرم و الاحرام الفارۃ ، و الغراب ، و الحدأۃ ، و العقرب ، و الکلب العقور۔ اھـ(متفق علیہ۔ مشکوٰۃ: ص۲۳۶)۔
فی الدر المختار : (و حل إصطیاد ما یؤکل لحمہ و ما لا یوکل) لحمہ لمنفعۃ جلدہ أو شعرہ أو ریشہ أو لدفع شرہ وکلہ مشروعٌ لاطلاق النص۔ اھـ (ج۶، ص۴۷۴)۔
فی رد المحتار : و فی التتارخانیہ قال ابویوسفؒ : اذا طلب الصید لہوا و لعبا فلا خیر فیہ و اکرہہ، و ان طلب منہ ما یحتاج الیہ من بیع أو ادام أو حاجۃ اخرٰی فلا بأس بہ۔ اھـ(ج۶، ص۴۶۲)۔