السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ!
دوسرے ممالک سے جو موبائل فونز آتے ہیں ،انہیں پاکستان میں ایکٹیویٹ کر وانے کے لئے ٹیکس دینا پڑتا ہے، ٹیکس کی مقدار حکومت نے اب بہت زیادہ کر دی ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کچھ لوگ پہلے سے ایکٹیویٹ شدہ موبائل کے آئی ایم ای آئی نمبر کو پھر سے آنے والے موبائل کے آئی ایم ای آئی نمبر سے بدل دیتے ہیں، جس سے یہ موبائل ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے، اور ٹیکس ادانہیں کرنا پڑتا، اس عمل کو پیچنگ کہتے ہیں-
1: سوال یہ ہے کہ پہلے سےپیچ شدہ موبائل کو خرید نا کیسا ہے ؟
2 ۔ کیا غیر پیچ شدہ موبائل کو خرید کر خود پیچ کر وایا جا سکتا ہے؟
سائل نے بیرون ملک سے درآمد شدہ موبائل کو بغیر ٹیکس ادا کیے استعمال کا جو طریقہ لکھا ہے، اس طریقہ سے موبائل کو ایکٹیویٹ کر کے استعمال کرنے میں حکومت کی لازم کردہ ٹیکس کی چوری لازم آتی ہے ، اس لئے اس طریقہ کار سے اجتناب لازم ہے، اور اس طرح کے موبائل کو خریدنے سے بھی اجتناب کرنا چاہئیے۔
كما فى تنزيل القرآن: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ } [النساء: 59]۔
و فی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (المادة 105) البيع: مبادلة مال بمال ويكون منعقدا وغير منعقد. يعني أن البيع هو تمليك مال مقابل مال على وجه مخصوص ويقسم باعتباره مطلقا إلى بيع منعقد وغير منعقد. وهذا التعريف كما أنه تعريف للبيع فهو تعريف للشراء أيضا وكما أنه ينطبق على البيع من كل الوجوه فهو منطبق على الشراء من كل وجوهه أيضا. (1/ 105)۔
و في شرح الاشباه والنظائر : قال المصنف في شرح الكنز ناقلا عن ائمتنا اطاعة الامام في غیر معصیة واجبة اھ (۱/ ۳۳۲) ۔