مفتی صاحب!
۱۔ آیا مرد کے لیے مونچھیں ریزر یا اُسترے سے منڈوانا جائز ہے۔
۲۔ کیا مرد حضرات فاضل بالوں کے لیے (بال صفا) پاؤڈر یا کریم استعمال کر سکتے ہیں۔
۱۔ اس طرح کرنا جائز، مگر خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے، اس لیے مونچھیں بجائے مونڈھنے اور حلق کرنے کے قینچی سے کترنی چاہئیں، خواہ وہ مونڈھنے کے برابر ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
۲۔ کریم وغیرہ کا استعمال بھی کر سکتے ہیں، اگرچہ بہتر استرے وغیرہ کا استعمال ہے۔
ففی مرقاة المفاتيح: قيل: الإحفاء قريب من الحلق، وأما الحلق فلم يرد، بل كرهه بعض العلماء ورآه بدعة. (7/ 2815)۔
و فی مرقاة المفاتيح: فإن أزال شعره بغير الحديد لا يكون على وجه السنة. (7/ 2814)۔
وفی الفتاوى الهندية: وفي الإبط يجوز الحلق والنتف أولى ويبتدئ في حلق العانة من تحت السرة ولو عالج بالنورة في العانة يجوز كذا في الغرائب. (5/ 358)۔